یمن کا سفر
Urdu book, p. 485
By Maulana Wahiduddin Khan
کے زیر اہتمام ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کے پاس ایک بار کسی دور کے شہر سے ایک تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ آیا۔ اقبال نے معذرت کرتے ہوئے لکھا۔ اقبال خانہ نشیں ہے ۔ اور موجودہ طوفان کے زمانہ میں اپنے گھر کو کشتی نوح سمجھتا ہے ۔ میں نے کہا کہ امریکہ (اور دوسرے مغربی ملکوں) میں جو مسلمان آباد ہیں وہ اور ان کی نسلیں ایک کلچرل طوفان سے دوچار ہیں ۔ وہ مغربی تہذیب کے طوفانی سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں اسلامی سوسائٹی جیسا مرکز ان کے لیے کشتی نوح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر جگہ ایسے اسلامی مراکز قائم کریں ، اور جہاں وہ قائم ہیں وہاں انھیں مضبوط کریں اور ان سے وابستہ رہتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں ۔ جو لوگ ان مرکزوں سے علیحدہ رہیں گے ان کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ فكان من المغرقين (ہود ۴۳) کا مصداق ثابت ہوں ۔ امریکی براعظم کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کو ساؤتھ امریکہ اور دوسرے کو نارتھ امریکہ کہا جاتا ہے۔ نارتھ امریکہ زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔ اگر صرف لفظ " امریکہ " بولا جائے تو اس سے یہی نارتھ امریکہ مراد لیا جاتا ہے ۔ میرا موجودہ سفر نارتھ امریکہ میں ہوا جس کو زیادہ صحیح طور پر یو ایس یا یو ایس اے کہا جاتا ہے ۔ امریکہ (یونائٹڈ اسٹیٹس) کا رقبہ ۹۳۶۳۲۰۵ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ رقبہ انڈیا کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہے ۔ " امریکہ ایک خوش قسمت ملک ہے " ایک صاحب نے کہا " امریکہ میں ہر قسم کے قدرتی ذرائع وافر مقدار میں موجود ہیں ، اور یہی اس کی غیر معمولی ترقی کا راز ہے ۔ " میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے ۔ امریکہ نے اگر ذرائع کی فراوانی کے بل پر ترقی کی ہے تو جاپان کی ترقی کے بارہ میں آپ کیا کہیں گے جہاں قدرتی ذرائع نایابی کی حد تک کم ہیں۔ سیاسی حالات کا غیر موافق ہونا اس پر مزید ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جاپان کا ظاہر یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی محنت اور دانش مندی ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے ۔ وہ ہر دوسری چیز پر بالا ثابت ہوتی ہے ۔ اینڈریو کلگور (Andrew Killgore) یہاں کی ایک مشہور شخصیت ہیں۔ انھوں نے امریکہ کی مہاجر کمیونٹی کے ایک اجتماع میں تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے کہا کہ کسی بھی سماج میں سب سے زیادہ محنت سے کام کرنے والے لوگ مہاجر ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader