Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 486

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ جیسے ملک میں جو حیثیت مہاجر کی ہے ، وہی ہندوستان جیسے ملک میں اقلیتی فرقہ کی ہے۔ ایک اعتبار سے ، دونوں ہی اقلیت کا کیس ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ امریکہ کی " اقلیت " زیادہ محنت کے ذریعہ اپنے کامیاب مستقبل کی تعمیر کر رہی ہے ، اور ہندوستان کی اقلیت " محنت کے راستہ کو چھوڑ کر احتجاج اور مطالبہ کا ناکام راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امریکہ جیسے ملکوں کی " اقلیتیں " اپنی فطرت پر ہیں۔ یہ فطرت کا سکھایا ہوا سبق ہے کہ جہاں کم مواقع ہوں، وہاں زیادہ محنت کرو۔ چنانچہ یہ لوگ فطرت کے زیر اثر ایسا کرتے ہیں کہ محنت کی زیادتی سے مواقع کی کمی کی تلافی کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان جیسے ملکوں میں فطرت اور انسان کے درمیان ایک مصنوعی پردہ حائل ہو گیا ہے ۔ یہ نام نہاد لیڈروں کا پردہ ہے۔ لیڈروں نے مسلسل جھوٹا سبق پڑھا کر یہاں کے انسان کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ ہندوستان کی اقلیت کو اگر اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہوتا تو وہ بھی اپنی فطرت کے زور پر وہی طریقہ اختیار کر لیتی جو امریکہ کی اقلیت نے اختیار کیا۔ امریکی اقلیت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کی رہنما خدائی فطرت ہے ، ہندوستانی اقلیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے رہنما جھوٹے انسانی لیڈر ہیں۔ انھیں دو لفظوں میں دونوں ملکوں کی اقلیتوں کے فرق کا راز چھپا ہوا ہے۔ امریکہ کی آبادی ڈھائی سو ملین (۲۵ کروڑ) ہے۔ اس میں چھ ملین یہودی ہیں۔ کل آبادی کا تین فی صد۔ اس اعتبار سے وہ یہاں کی ایک بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ مگر امریکی یہودی اپنے کو اقلیت نہیں سمجھتے۔ امریکی نظریہ کے مطابق، وہ مختلف مگر برابر (Different but equal) کے اصول کو مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیت محض کوئی عددی معاملہ نہیں ۔ وہ در اصل ایک ذہنی حالت کا نام ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page