Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 488

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے برعکس ہندوستان کے مسلم لیڈر اپنے ہم قوم لوگوں کو یہ جھوٹا سبق سکھارہے ہیں کہ دوسرے کے خلاف حقوق طلبی کی مہم چلاؤ۔ ہندوستان میں تجارت کا مطلب لوٹ ہوتا ہے۔ یہاں میں کسی کے پاس ملکی صنعت کی بنی ہوئی کوئی چیز دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: ایک مرتبہ تو میں پھنس گیا، مگر دوبارہ میں پھنسنے والا نہیں۔ ہندوستان میں آدمی قیمت دے کر بھی اپنی مطلوب چیز کو نہیں پاتا۔ امریکہ میں صورت حال اس سے بالکل مختلف نظر آئی۔ یہاں ہر چیز سائنس کے جدید معیار پر بنائی جاتی ہے۔ ہینڈ بیگ سے لے کر کار تک، اور ٹیلی فون سے لے کر دستی گاڑی تک ہر چیز عین وہی ہے جیسا کہ معیار کے مطابق اسے ہونا چاہیے۔ یہاں کا گاہک ضروری قیمت دینے کے بعد ہمیشہ اپنی مطلوب چیز کو پا لیتا ہے۔ یہ فرق دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہندوستان میں بھری ہوئی سیٹوں کے درمیان ایک عظیم الشان سیٹ ابھی خالی ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کوئی اگر وہاں بیٹھے۔ یہاں تجارتی لوٹ کی جگہیں بھری ہوئی ہیں۔ مگر تجارتی تبادلہ کی جگہ ابھی تک خالی ہے۔ یہاں کے مسلمان اگر کوآپریٹو سوسائٹیاں بنائیں اور مشترکہ سرمایہ کے ذریعہ مختلف صنعتیں کھولیں جہاں سستے سامان بنانے کے بجائے حقیقی مطلوبہ معیار کے مطابق چیزیں بنائی جائیں تو وہ زبردست کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہندوستان کے وسیع جغرافیہ میں وہ اپنا ایک ”امریکہ“ بنا سکتے ہیں۔ امریکی ایک بہت خرچ کرنے والی قوم ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت جاپانی اپنی آمدنی کا ۱۸ فی صد سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرتے ہیں۔ جب کہ امریکی اپنی آمدنی کا صرف ۳ فی صد حصہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرتے ہیں۔ چنانچہ بچت (Individual savings) کے اعتبار سے اس وقت جاپانی سب سے زیادہ بچانے والی قوم ہیں۔ ۱۹۸۸ میں جاپانیوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر جو رقم تھی، اس کی مقدار ۵۰۰ بلین ڈالر ہے۔ امریکیوں کی اسی خصوصیت کا یہ نتیجہ ہے کہ وہاں ہر قسم کی سرگرمیاں شباب پر نظر آتی ہیں۔ کوئی بھی غلط یا صحیح کام کیجیے، وہاں آپ کو مالی تعاون کرنے والے مل جائیں گے۔ خیراتی کاموں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page