Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 489

By Maulana Wahiduddin Khan

میں رقم دینے والے امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں ۔ دنیا بھر کی عیسائی مشنریوں کو سب سے زیادہ امداد امریکہ سے ملتی ہے ۔ ہندو گروؤں کو سب سے زیادہ تعاون امریکہ سے ملا ہے ۔ انگریزی اسلامی لٹریچر کا سب سے بڑا مارکیٹ امریکہ ہے ، وغیرہ ۔ بعض لوگ اس کی شکایت کرنے والے ملے کہ امریکہ کے لوگ بے فائدہ کاموں میں بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں ، مگر ان کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ امریکہ میں فائدہ والے کاموں کے لیے بھی بہت زیادہ تعاون حاصل ہو جاتا ہے ۔ مغربی دنیا میں امریکی لوگ سب سے زیادہ مذہبی سمجھے جاتے ہیں ۔ مثلاً فرانس میں صرف ۵ فی صد لوگ چرچ جاتے ہیں ۔ انگلینڈ میں ۱۰ فی صد ۔ مگر امریکہ میں چرچ جانے والوں کی تعداد ۵۰ فی صد ہے ۔ امریکہ غالباً واحد ملک ہے جس کی کرسی ڈالرس پر یہ فقره لکھا ہوا ہوتا ہے : In God we trust ایک طرف امریکہ میں اگر جنسی آزادی اور اس قسم کی دوسری برائیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف ان کے یہاں مذہبی مزاج بھی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ اگر امریکی سماج کے ”تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کرکے دیکھا جائے تو یہاں اسلامی دعوت کے مواقع نہایت روشن نظر آئیں گے ۔ یہاں اگر آپ صبح کے وقت کسی سڑک پر نکلیں تو ہر گھر کے سامنے آپ کو پلاسٹک کے بڑے بڑے تھیلے رکھے ہوئے نظر آئیں گے ۔ ان تھیلوں کے اندر گھر کا کوڑا بھرا ہوتا ہے۔ سرکاری گاڑیاں ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں۔ پھر خاص قسم کی مشینو میں رکھ کر انہیں دبایا جاتا ہے تو ان کا حجم بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح ان کو ٹھکانے لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ مغربی ملکوں میں یہ کام ایک مستقل فن بن چکا ہے جس کو گاربالوجی (Garbology) یا ویسٹ مینجمنٹ (Waste management) کہا جاتا ہے ۔ اس فن میں تازہ ریسرچ اس بات پر ہو رہی ہے کہ کوڑے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے کیا کیا جائے ۔ یہ ریسرچ اب کافی آگے بڑھ چکی ہے ۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ آئندہ یہ ممکن ہو سکے گا کہ سیور گیس (Sever gas) سے ڈائمنڈ بنایا جاسکے۔ امریکی بحریہ کے سائنس دانوں نے حال میں اس کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایک شخص نے اس کو بتاتے ہوئے کہا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page