Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 491

By Maulana Wahiduddin Khan

اقوام متحدہ کے ادارۂ زراعت کے تحت کی گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں کار اور ہوائی جہاز سے لیکر جدید قسم کی بیل گاڑی تک اکثر چیزیں وہ ہیں جو امریکہ سے دنیا کو ملی ہیں۔ امریکہ کا یہی تخلیقی عمل ہے جس نے اسے جدید دنیا میں برتر مقام دیدیا۔ اس کا سبب وہ " سازشیں " نہیں ہیں جو ہم نے اس لیے دریافت کر رکھی ہیں تاکہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنی پسماندگی کو خود اپنی نااہلی کے خانہ میں ڈالنے کے بجائے دوسروں کی نالا ئقی کے خانہ میں ڈال سکیں ۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے جولائی ۱۹۶۵ کا ایک تجربہ ان الفاظ میں لکھا تھا ؀ " ایک دن دوپہر کی گاڑی سے کیلیفورنیا یونی ورسٹی کے ایک استاد بے شان و گمان دریا باد پہنچے۔ اور دوڑھائی گھنٹے کے سوال وجواب کے بعد واپسی کی ٹرین سے واپس ہو گئے امریکہ کے صاف و شفاف بلوری سڑکوں کا عادی ہمارے قصبات کی ادھ پکی ادھ پکی کچا بچوں اور گڑھوں سے بھری ہوئی سڑکوں کا تصور بھی نہ کر سکتا ہو گا۔ اور پھر موٹر نشیں امریکی کے ذہن میں کھڑ کھڑے چرخ چوں اییکوں کی تصویریں بھی کیوں آنے لگیں تھیں۔ اور یہ تجربہ بالکل انوکھا نہیں ۔ ایک اور امریکی پروفیسر خاک چھانتے آج سے چند سال قبل بھی آ چکے تھے ۔ ایسے عجوبہ سفر سے بڑھ کر اجوبہ سفر بھی غرض و غایت نکلا۔ موضوع مطالعہ و تحقیق ہندوستان میں تحریک خلافت کی تاریخ (تقریباً 1929 - 1919) اسی ایک کام کے لئے امریکہ سے ہندوستان ، پاکستان کا سفر اور مدراس ، بنگلور، دہلی، حیدر آباد ، کلکتہ، لکھنؤ ، لاہور ، کراچی وغیرہ کے علاوہ دریا باد تک کی پرمشقت مسافت ۔ اور عین اسی زمانہ میں ایک دوسرے امریکی ریسرچ اسکالر اپنا موضوع لئے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی تحریکات ( ۰۰ اسے لیکر ۱۹۲۰ تک ) ہندوستان کی خاک چھان رہے ہیں۔ اور دریا باد آنے پر ہر وقت آمادہ لکھنؤ میں بیٹھے ہوئے ہیں کے حقیر ذخیرہ معلومات ( کامریڈ وغیرہ کی جلدوں ) سے کام لے رہے ہیں ( صدق جدید ۱۲ اگست ۱۹۶۵ ) یہ اس قسم کی بے شمار مثالوں میں سے ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی قومیں کس طرح ہر قسم کے احوال سے اپنے کو باخبر رکھتی ہیں تاکہ ان کی پلاننگ صحیح ہو۔ قدیم زمانہ میں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد سارے یورپ میں نئے قسم کے اہل علم جاگ اٹھے جن کو مستشرق کہا جاتا ہے ۔ انھوں نے مشرقی اقوام (بشمول مسلمان کی اتنی کامل تحقیق کی کہ ان کے بارے میں خود مشرقی اقوام سے زیادہ واقف اور باخبر ہوگئے۔ اس واقفیت سے انھوں نے زبردست فائدہ اٹھایا جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page