یمن کا سفر
Urdu book, p. 490
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے حالیہ الیکشن (۱۹۸۸) میں جو لوگ صدارت کے امیدوار تھے ، ان میں مسٹر گیری ہارٹ (Gary Hart) کا نام ابتداء سر فہرست تھا۔ عوام میں ان کی مقبولیت کی بنا پر پیشین گوئی کی جارہی تھی کہ اگلی میعاد کے لیے وہی صدر منتخب ہوں گے۔ مگر الیکشن سے پہلے یہاں کے بعض اخباروں نے مسٹر ہارٹ کی ایک تصویر چاپ دی جس میں وہ امریکہ کی ایک فلم ایکٹریس ڈونارائس (Donna Rice) کے ساتھ نظر آرہے تھے۔ اخباروں نے انکشاف کیا کہ مسٹر ہارٹ نے ڈونارائس کے مکان میں رات گزاری ہے۔ اس کے بعد مسٹر ہارٹ کی مقبولیت اچانک ختم ہوگئی۔ حتی کہ انھیں صدارت کی امیدواری سے اپنا نام واپس لینا پڑا۔ اس کے برعکس مثال پاکستان کی ہے۔ نومبر ۱۹۸۸ کے الیکشن کے موقع پر بھٹو پارٹی کے اسلامی مخالفین نے ایک تصویر چھاپی جس میں مسز نصرت بھٹو کو امریکہ کے سابق صدر مسٹر فورڈ کے ساتھ ناچتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کو لاکھوں کی تعداد میں چھاپ کر پاکستان بھر میں پھیلا دیا گیا ۔ مگر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور پاکستانی عوام نے بھٹو پارٹی کے حق میں ووٹ دے کر بے نظیر بھٹو کو پاکستان کا وزیر اعظم بنادیا ۔ اسلامی ملک اور غیر اسلامی ملک کا یہ فرق بھی کیسا عجیب ہے۔ ایک خبر پڑھی۔ اس میں بیل گاڑی کے بارہ میں ایک " نئی دریافت " کا ذکر تھا۔ ترقی پذیر ملکوں میں جانوروں کے ذریعہ کھینچی جانے والی گاڑیوں میں ٹائر لگانے سے بہت آسانی ہو گئی ہے۔ یہ گاڑیاں ہلکی چلتی ہیں اور ان میں زیادہ سامان ڈھویا جاسکتا ہے۔ مگر دیہاتی علاقوں میں کچی سڑکوں کی وجہ سے ان کے ٹائر اکثر اوقات پنکچر ہوجاتے ہیں اور پھر ان میں دوبارہ ہوا بھرنا اور قابل استعمال بنانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ان ٹائروں میں ہوا کی جگہ لکڑی کا بھوسہ بھرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس طرح ان ٹائروں کے پنکچر ہونے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں تقریباً دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں اور ان میں ۵۰ کلوگرام سامان لادا جاسکتا ہے۔ یہ " دریافت "

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader