Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 499

By Maulana Wahiduddin Khan

پلٹسٹی کی گئی ہے۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی اہمیت کی چیز کو شہرت نہیں ملتی۔ البتہ غیر حقیقی اہمیت والی چیزیں بہت زیادہ شہرت حاصل کر لیتی ہیں۔ ایک صاحب نے پر فخر طور پر کہا کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے فلک بوس عمارتیں (Skyscrapers) میں شہرت حاصل کی، میجر ولیم لی بیرن جینی نے ١٨٨٥ میں پہلی دس منزلہ بلڈنگ شکاگو میں بنائی۔ اس کے بعد یہ ذوق بڑھتا رہا۔ نیویارک میں ١٩٣٠ میں کرسلر بلڈنگ بنائی گئی جس کی ٣٧ منزلیں تھیں۔ ۱۹۳۱ میں نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ بنی جس میں ١٠٢ منزلیں ہیں۔ ١٩٧٣ میں شکاگو میں سیرس ٹاور بنایا گیا جس کی ۱۱۰ منزلیں ہیں۔ موجودہ یہ سرس (Sears) میں ۱۳ ہزار کارکن کام کرتے ہیں۔ یہ ایک عظیم الشان ریٹیل شاپ ہے، چنانچہ اس کو ہر چیز کی دکان (Everything stores) کہا جاتا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی کارنامہ سے زیادہ خدائی کارنامہ کو یاد دلاتا ہے۔ یہ غیر معمولی اونچی عمارتیں تمام تر لوہا (اسٹیل) کا کرشمہ ہیں۔ قرآن میں ہے کہ لوہے کے اندر خدا نے بأس شدید (الحديد (٢٥) پیدا کیا ہے۔ لوہے کی اسی قدرتی صفت نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ زمین کے اوپر اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کی جا سکیں ۔ ”اسکائی اسکریپر" کو دیکھ کر آپ کے اوپر استعجاب کی حالت طاری ہو رہی ہے ۔ مگر یہ استعجاب حقیقتہ انسانی انجینرنگ پر نہیں بلکہ خدائی تخلیق پر ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ انجینئرنگ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی تخلیق کا انسانی استعمال ہے ۔ "لوہا " تخلیق ہے اور اسکائی اسکریپر صرف اس کا ایک استعمال ۔ ایک امریکی سے ملاقات ہوئی جو واشنگٹن کا رہنے والا تھا ۔ واشنگٹن امریکہ کی راجدھانی ہے ۔ میں نے اس سے پوچھ کہ واشنگٹن کے بارہ میں کچھ بتائیے۔ اس نے مسکرا کر کہا : People only leave Washington by way of the box — ballot or coffin. یعنی لوگ واشنگٹن کو صرف بکس کی راہ سے چھوڑتے ہیں ۔ ووٹ کا بکس یا تابوت کا بکس ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ راجدھانی ہونے کی وجہ سے واشنگٹن میں ہر قسم کی اعلیٰ ترین سہولتیں مہیا ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page