Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 500

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے علاوہ تمام اہم ترین سیاسی فیصلے یہیں ہوتے ہیں ۔ جس شخص کو واشنگٹن میں کوئی جگہ مل جائے ، وہ اس کو آخری سمجھ کر اس سے لپٹنا چاہتا ہے ۔ میں نے سوچا کہ جس " واشنگٹن " کا حال یہ ہو کہ ایک " بکس " آدمی کو اس سے جدا کر دے ، اس واشنگٹن کی کیا حقیقت ۔ " واشنگٹن " تو وہ ہے جس میں ہمیشگی کی صفت پائی جائے ۔ اور ایسا واشنگٹن آدمی کو جنت کے سوا کہیں اور نہیں مل سکتا ۔ ۲۹ دسمبر ۱۹۸۸ء کو میں جناب صغیر اسلم صاحب کے گھر پر تھا ۔ صبح فجر کے وقت اچانک خطرہ کا الارم بجنے لگا ۔ چند سیکنڈ کے بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ صغیر احمد صاحب نے رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے فوراً آواز آئی کیا آپ ٹھیک ہیں (Are you O. K., Sir ?) ۔ یہاں پر گھروں میں ایک سسٹم لگا ہوا ہوتا ہے جس کو سیکیورٹی الارم سسٹم کہتے ہیں ۔ اگر کوئی اجنبی شخص دروازہ کھول کر باہر نکلے یا اندر داخل ہو تو الارم فوراً بجنے لگتا ہے ۔ اور عین اسی وقت پولیس کے کنٹرول روم میں لال بتی جل جاتی ہے ۔ پولیس ایک منٹ کے اندر صاحب مکان کو ٹیلی فون کر کے خیریت معلوم کرتی ہے ، یہ ٹیلی فون اسی کے مطابق ، پولیس کے دفتر سے آیا تھا ۔ مذکورہ الارم کا قصہ اس لیے پیش آیا کہ ہمارے ایک ساتھی نے فجر کے وقت باہر جانے کے لیے گھر کا دروازہ کھول دیا تھا ۔ اتنے زبردست انتظام کے باوجود امریکہ میں مسلسل قتل اور ڈاکہ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ پر امن سماج کے قیام کے لیے مشینی انتظام کے سوا بھی ایک چیز درکار ہے۔ اور وہ خدا کا خوف ہے ۔ صرف مشینی انتظام کبھی پر امن سماج کے قیام کی ضمانت نہیں بن سکتا ۔ صغیر احمد اسلم ( پیدائش ۱۹۳۶ء) کمالیہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے ۔ اب وہ امریکی شہری ہو چکے ہیں ۔ انھوں نے اپنا ۱۹۵۱ء کا ایک واقعہ بتایا ۔ رمضان کا زمانہ تھا ۔ اسکول سے فارغ ہو کر وہ بائیسکل کے ذریعہ گھر کے لیے روانہ ہوئے ۔ انھوں نے بازار سے آلو بخارا اور مالٹا خریدا ۔ اس کو بائیسکل کے پیچھے رکھ کر جا رہے تھے ۔ راستہ میں ایک شخص ملا ۔ اس نے ان کو روکا اور کچھ آلو بخارا زبردستی نکال کر لے لیا ۔ صغیر احمد اسلم صاحب نہ غصہ ہوئے اور نہ اس سے دوبارہ اپنا آلو بخارا چھینے کی کوشش کی ۔ اس کے بجائے انھوں نے کہا : دیکھو ، یہ مالٹا ہے ، اس میں سے بھی لے لو ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page