Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 502

By Maulana Wahiduddin Khan

صغیر احمد اسلم صاحب نے بتایا کہ ۱۹۶۹ میں وہ لاس اینجلس کی ایک بڑی فرم میں ۳۵ اسٹور کے مینیجر تھے۔ ان کو اپنے امریکی افسر کے ساتھ سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ جنرل مینیجر تقریباً ۳۵ سال کا تھا۔ اور ہوٹل کے زمانہ قیام میں شراب اور عیاشی کے کاموں میں مشغول رہتا تھا۔ صغیر اسلم صاحب ایک با اصول آدمی تھے۔ ان کو اس قسم کی باتیں پسند نہ تھیں۔ آخر ایک سفر میں وہ جنرل مینیجر کے کمرہ میں گئے اور دروازہ بند کر کے اس سے نہایت سخت گفت گو کی ــــ تم عیاش ہو، تم بالکل نکمے ہو، تم بزنس کرنا نہیں جانتے، وغیرہ۔ صغیر اسلم صاحب جنرل مینیجر کو بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بعد جب باہر جانے لگے تو جنرل مینیجر نے ان کو پکڑ کر واپس بلایا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ ہاں، تم اس کمپنی کے مالک ہو۔ اس نے کہا کہ پھر تمہارے اندر یہ جرأت (Courage) کہاں سے آئی کہ تم مجھ کو اس طرح خطاب کرو۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ تم یہی تو کر سکتے ہو کہ مجھ کو فارغ (برخواست) کر دو، تو میں اس سے پہلے کمپنی سے اپنا استعفا تیار کر چکا ہوں۔ اس نے کہا کہ فارغ کرنا تو درکنار، میں تم کو چھوڑوں گا بھی نہیں، تم ہماری کمپنی کے لیے بہت قیمتی ہو۔ اس شخص کا نام جب اسٹوارت میگروڈر (Jeb Stuart Magruder) تھا۔ میں نے صغیر اسلم صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اس کے ساتھ اتنی سخت گفتگو کی ، پھر بھی وہ آپ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ میں کمپنی کے لیے ایک مفید شخص ہوں۔ اپنے ذاتی جذبات پر اس نے کمپنی کے مفاد کو غالب رکھا۔ مذکورہ امریکی نے ذاتی رنجش کے باوجود صغیر اسلم صاحب کی قدر دانی کی۔ یہ اعتراف اور یہ بلند حوصلگی جو امریکہ کے ایک شرابی میں پائی جاتی ہے، وہ آج ہماری بڑی بڑی دینی شخصیتوں میں بھی موجود نہیں۔ ذاتی رنجش کے بعد کسی کی صلاحیت کا اعتراف بلاشبہ اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے، مگر ہمارے تمام اکابر اس اخلاقی قدر سے مکمل طور پر خالی ہیں ۔ ایک امریکی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اس کا ایک پاؤں کسی حادثہ میں ضائع ہو گیا تھا اور اس کی جگہ اس نے مصنوعی پاؤں لگا رکھا تھا۔ یہ نوجوان ایک پرکشش شخصیت کا مالک تھا، مگر پاؤں کا کھونا اس کے لیے ایک نا قابلِ تلافی محرومی بنا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر بڑی عبرت ہوئی۔ میں نے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page