Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 503

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا جسم ایک بے قیمتی مشین ہے ۔ مگر اس مشین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی کارخانہ نہیں جہاں اس زندہ مشین کے اسپیئر پارٹ (Spare Parts) تیار ہوتے ہوں۔ انسان کے لیے اپنی کمیوں کی تلافی کی صورت صرف ایک ہے ۔ وہ اپنے خالق کو راضی کرے تاکہ بعد کو آنے والی دنیا میں وہ اس کو ایک ابدی اور بے نقص جسم عطا کر دے۔ ایک تعلیم یافتہ عیسائی نے کہا کہ میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا ہے۔ مگر بعض سوالات میرے ذہن کو الجھا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون سے سوالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں غلامی کا مسئلہ ، پیغمبر کا کئی شادیاں کرنا ، حجر اسود کو چومنا ، وغیرہ ۔ میں نے کہا کہ اسلام یا کسی بھی نظام کا مطالعہ کرنے کا یہ طریقہ درست نہیں ۔ ہر مذہب یا ہر نظام میں کچھ بنیادی چیزیں ہوتی ہیں اور کچھ فرعی چیزیں ۔ ایک سنجیدہ متلاشی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ پہلے زیر مطالعہ مذہب یا نظام کی بنیادی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے جب ان کے بارہ میں پوری واقفیت حاصل ہو جائے ، اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ فرعی یا ضمنی باتوں کو سمجھا جائے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ امریکہ کے نظام تہذیب کو سمجھنا چاہیں تو اس کا آغاز آپ یہاں سے نہیں کریں گے کہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن اپنی جیب میں ہمیشہ سونے کی نعل کیوں رکھتے تھے۔ مطالعہ کا یہ طریقہ درست نہ ہوگا۔ اس کے برعکس آپ یہ کریں گے کہ پہلے امریکہ کی تاریخ ، اس کے علوم ، اس کے قانون اور اس کے صنعتی اور تجارتی طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہی طریقہ علمی طریقہ ہے اور یہی طریقہ آپ کو اسلام کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں بہت سے نومسلم امریکیوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً ۳۹ سالہ پال یوسف جیول (Paul Yusuf Jewell) جو سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور سراج وہاج جو سیاہ فام نسل میں پیدا ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا۔ کانفرنس میں بھی بڑی تعداد میں نومسلم امریکی آئے ہوئے تھے ۔ ان میں سے بعض نے وہاں تقریریں بھی کیں ۔ ایک خاص بات یہ محسوس ہوئی کہ نومسلم امریکیوں میں ، دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں ، زیادہ ایمانی جوش اور زیادہ جذبہ عمل پایا جاتا ہے ۔ لوگوں کے ذریعہ یہاں کے جو حالات معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page