یمن کا سفر
Urdu book, p. 509
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ آپ کو اس غم میں مبتلا نظر آئے گا کہ اس کے بچے " اسلامی تہذیب " سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ دوسری طرف ان مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص ( الا ماشاء اللہ ) سودی قرض پر زندگی گزار رہا ہے۔ بچوں کی تہذیبی شناخت کے معاملہ میں ان کا اسلامی احساس زندہ ہے ، مگر اپنے آپ کو سودی قرض سے بچانے کے معاملہ میں ان کا اسلامی احساس زندہ نہیں ۔ یہاں عام طور پر لوگ دو سبب سے سودی قرض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ ایک شخص ہے جس نے نیا نیا روزگار حاصل کیا ہے ۔ اس کے پاس اپنے روزمرہ کے خرچ کے لیے تو معقول رقم ہوگی ، مگر اس کے پاس اتنی رقم نہ ہوگی کہ وہ فوراً کار اور مکان بھی حاصل کر لے ۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ وہ دس سال تک کما کر رقم بچائے اور دس سال کے بعد کار اور مکان حاصل کرے ۔ مگر ماحول کے زیر اثر وہ اس انتظار پر راضی نہیں ہوتا اور فوراً ہی کار اور مکان کا مالک بن جانا چاہتا ہے ۔ یہاں بینک اس کی مدد کرتا ہے اور کار اور مکان اور دوسری قیمتی چیزوں کے لیے اس کو سودی قرض فراہم کر دیتا ہے ۔ اس طرح آدمی سودی قرض میں پھنس جاتا ہے اور پھر تمام عمر اس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس رقم موجود ہوتی ہے (مثلاً تاجر حضرات ) ، مگر وہ بھی مکان جیسی زیادہ قیمتی چیزوں کو نقد خرید نا پسند نہیں کرتے ۔ وہ بینک سے قرض لے کر مکان خریدتے ہیں اور خود اپنی رقم کو کاروبار میں لگا دیتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بینک کو جتنا سود ادا کریں گے، اس سے زیادہ وہ کاروبار میں نفع کما کر حاصل کر لیں گے ۔ امر یکی مسلمانوں کا یہ تضاد بتاتا ہے کہ اپنے بچوں کی تہذیبی پہچان کے لیے ان کا غم اسلامی غم نہیں ہے ۔ اگر وہ اسلامی غم ہوتا تو اس کا اثر دونوں معاملات میں ظاہر ہوتا ۔ یہ قومی جذبہ کے تحت ہے نہ کہ حقیقتہ اسلامی جذبہ کے تحت ۔ اور یہ قومی جذبہ جس طرح مسلمانوں میں ہے اسی طرح وہ پوری شدت کے ساتھ دوسری قوموں میں بھی پایا جاتا ہے ملاحظہ ہو سطر رام یکسانی کا بیان، مطبوعہ قومی آواز ، ۴ جنوری ۱۹۸۸ ، صفحہ ۲) اس معاملہ کا اس سے بھی زیادہ عجیب پہلو یہ ہے کہ یہاں کے تمام مسلمان اس بات کی شکایت کرتے ہوئے نظر آئیں گے کہ امر یکی اقتصادیات پر یہودیوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader