Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 508

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح انہوں نے اور بہت سی معلوماتی باتیں بتائیں۔ ۱۸۹۲ء میں امریکہ کا پہلا عربی رسالہ جاری ہوا جس کا نام ”کوکبِ امریکہ“ تھا۔ نارتھ ڈاكوٹا کے شہر روس (Russ) میں یہاں کا پہلا جمعہ ۱۹۰۰ء میں قائم ہوا۔ مشی گان کے شہر ہائلینڈ پارک میں ۱۹۱۹ء میں پہلی باقاعدہ مسجد تعمیر کی گئی۔ مگر افسوس کہ اب وہ چرچ ہے (وهو الآن مع الأسف كنيسة) اس وقت امریکہ میں ۲۰۰۰ سے زیادہ باقاعدہ مسجدیں ہیں۔ گھروں کی سیکڑوں مسجدیں اس کے علاوہ ہیں۔ انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ ۱۸۵۶ء میں امریکہ نے عرب سے ۳۳ اونٹ خریدے تھے جو کشتی کے ذریعہ امریکہ لائے گئے تاکہ یہاں کے جنوبی علاقہ میں ان سے بار برداری کا کام لیا جاسکے۔ مگر آج یہ حال ہے کہ خود عرب مالک امریکہ سے کار اور ہوائی جہاز خریدرہے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق، عربوں کے مقابلہ میں دوسری قوموں کے لوگ اپنی زبان اور اپنے کلچر کی حفاظت کے معاملہ میں زیادہ سخت ہیں۔ ایک عرب ایک بار ایک یہودی کے گھر گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا لڑکا ایک کونے میں دونوں ہاتھ اوپر کیے ہوئے ایک پاؤں پر کھڑا ہے اور رو رہا ہے۔ دریافت کرنے پر یہودی نے بتایا کہ میں اس سے کہتا ہوں کہ گھر کے اندر عبرانی زبان بولو مگر وہ نہیں بولتا۔ اسی کی یہ سزا ہے۔ ایک بوڑھے عرب نے انھیں بتایا کہ میرے لڑکے عرب اخلاق اور عرب زبان کو بھول چکے ہیں۔ اس نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا اپنا گناہ ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو امریکہ میں لاکر جرم کیا ہے (إنه ذنبي أنا۔ لقد أجرمت باحضار ابنائي الى أمريكا) نئی نسل اگرچہ امریکی سماج میں گھل مل گئی ہے۔ مگر قدیم نسل سخت غیر مطمئن ہے۔ ایک بوڑھا عرب جو امریکہ کا شہری بن چکا ہے اور یہاں خوش حال زندگی گزار رہا ہے۔ اس نے ڈوکرمڑ سے کہا کہ میری بدقسمتی ہے کہ میں امریکہ کے موٹرانہ کارخانہ میں محنت کرکے ڈالر کماتا رہا۔ یہی محنت اگر میں خود اپنے ملک میں کرتا تو وہاں بھی میں اپنے لیے ایک اچھی زندگی بنا سکتا تھا (ولسوء الحظ فقد بذلت من الجهد في مصانع السيارات ما ان لو بدّلته في بلدى لعيشت افضل حياة) امریکہ کے مسلمان مجھے ایک بڑے تضاد میں مبتلا نظر آئے۔ یہاں آپ جس مسلمان سے بھی ملیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page