یمن کا سفر
Urdu book, p. 513
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھنا اور مواقع کو نہ دیکھنا ہی بے بصیرتی ہے، اور موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان اسی بے بصیرتی میں مبتلا ہیں، ان کے اصاغر بھی اور ان کے تمام اکابر بھی۔ محمود السائس ایک مصری انجینئر ہیں۔ انھوں نے مصر کے بعد امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آج کل وہ امریکہ کے ایک بڑے انجینئرنگ ادارہ (Database System Services) میں ممبر ہیں۔ یہ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی کا ادارہ ہے جو ہوائی جہاز بنانے کا کام کرتی ہے۔ محمود السائس کا کہنا ہے کہ میں اور اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ، جو یہاں ہیں، وہ شناخت کے بحران (Identity crisis) میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے ۲۲ فروری ۱۹۸۰ء کو ایک مخصوص منارم بھرا۔ اس کے تحت انھوں نے اس بات کا حلف لیا کہ میں ہر بیرونی وفاداری کو مکمل طور پر ترک کرکے پوری طرح صرف امریکہ کا وفادار رہوں گا۔ "مگر دس سال گزرنے کے بعد بھی میں دہرا جذبات کا شکار ہوں" انھوں نے کہا۔ ایک طرف، محمود السائس کے الفاظ میں، ان کے معاہداتی فرائض (Contractual obligations) ہیں جن کا تعلق امریکہ سے ہے۔ دوسری طرف ان کے جذباتی احساسات (Sentimental feelings) ہیں جو ان کے سابق وطن مصر سے وابستہ ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان دونوں چیزوں کے درمیان میں اپنی شخصیت کو متعین نہیں کر پاتا۔ کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ میری اصل قومیت کیا ہے؟ Can you tell me what my true nationality is? میرا اندازہ ہے کہ یہی ان تمام لوگوں کا حال ہے جنھوں نے یہاں کی شہریت حاصل کرلی ہے۔ ہر ایک دہرا شخصیت کا انسان بنا ہوا ہے: کچھ لوگ کش مکش میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگ چھوڑ کر دوبارہ اپنے سابق وطن چلے گیے۔ اور کچھ لوگوں نے اس جھنجھٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو اس حد تک امریکی بنالیا کہ اب وہ غیر ذبیحہ کھاتے ہیں۔ اور "عید" کے بجائے "کرسمس" کو اپنے تیوہار کے طور پر مناتے ہیں۔ مسلمان اگر مغربی ملکوں میں داعی بن کر آتے تو وہ وہی تاریخی کارنامہ انجام دیتے جو صحابہ کرام نے عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں جا کر انجام دیا۔ مگر وہ داعی بن کر نہیں آئے نتیجہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader