یمن کا سفر
Urdu book, p. 514
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو اک وہ صرف دوسری قوموں کے مدعو بن کر رہ گئے ۔ امریکی مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اندازہ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں چار ملین کی تعداد میں وہ مسلمان ہیں جو حال میں ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں۔ اور چار ملین سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو پہلے بلیک مسلم کہا جاتا تھا ، مگر اب وہ بقیہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں اور صرف مسلم کہے جاتے ہیں۔ یہ مسلمان چار ہزار سے زیادہ مسجدوں اور کلچرل مراکز میں اپنے مذہبی اعمال ادا کرتے ہیں : امریکہ کے کالے باشندوں (نیگرو) کو پہلے غلام سمجھا جاتا تھا ۔ تاہم اب انھیں قانونی طور پر یکساں شہری حقوق حاصل ہیں۔ اگرچہ اپنی تعلیمی پسماندگی کی بنا پر وہ اس قانونی امکان سے ابھی پورا فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے بعض نئے مفکرین نے سفید فام باشندوں اور سیاہ نام باشندوں کے درمیان یکساں حقوق کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے سیاہ نام باشندے مختلف مگر یکساں (Different by equal) ہیں۔ یہ نہایت صحیح تعبیر ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ عورت اور مرد کے فرق کا بھی ہے۔ عورت مرد سے مختلف ہے ، مگر حقوق اور انسانی احترام میں وہ یکساں ہے۔ لیکن امریکی مفکرین نے جس حقیقت کو سیاہ فام اور سفید فام باشندوں کے معاملہ میں سمجھ لیا ہے ، وہ اس حقیقت کو ابھی تک عورت اور مرد کے معاملہ میں سمجھ نہ سکے ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سفید فام اور سیاہ فام کے مسئلہ پر انھوں نے کھلے ذہن کے تحت سوچا، اس لیے وہ اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھ گئے ۔ مگر عورت اور مرد کے معاملہ میں سوچتے ہوئے ان کی خواہش رکاوٹ بن گئی۔ اس نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر وہ اس دوسرے معاملہ میں اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں ناکام رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader