Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 516

By Maulana Wahiduddin Khan

میاں محمد سعید نے کہا کہ محمد علی بلیک مسلم ہونے کی حیثیت سے الیاجا محمد کا پیرو تھا۔ مگر ساری دنیا میں اس کا استقبال ایک مسلم ہیرو کی حیثیت سے کیا گیا : He was welcomed all other world as a Muslims hero اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محمد علی کل کیلئے اپنے آپ کو مسلم ملت کا ایک فرد سمجھنے لگے۔ امریکہ کے کالے مسلمان عمومی طور پر مسلمانوں کے قریب آگئے۔ یہ قربت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ کالے مسلمانوں کے موجودہ لیڈر وارث محمد نے حج کے لیے جانا چاہا تو ان کو بھی بلاروک ٹوک حج کی اجازت مل گئی۔ وہاں ان کی ملاقات تمام دنیا کے مسلمانوں سے ہوئی ۔ اس سے ان کو اپنے خیالات کی تصحیح میں مدد ملی۔ نیوآرک (Newark) میں رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں وارث محمد کو شرکت کی دعوت دی گئی ۔ جب وہ وہاں پہونچے تو ان کا خصوصی استقبال کیا گیا ۔ یہاں انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کھلے طور پر اعلان کیا کہ ان کے باپ الیاجا محمد عام انسان کہتے، وہ پیغمبر نہیں تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت آخری طور پر ختم ہو چکی ہے ۔ ہم دوسرے مسلمانوں کے عقیدہ کو مانتے ہوئے ان کے ساتھ یکساں طور پر شامل ہوتے ہیں۔ ان کے والد کا کہنا تھا کہ موجودہ زمانہ میں صرف ان کی جماعت کو امت اسلام کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ اپنی جماعت کا نام انھوں نے (Lost-Found Nation of Islam) رکھا تھا۔ وارث محمد نے اس کو بدل کر اپنی جماعت کا نام " امریکن مسلم " رکھ دیا۔ وغیرہ قادیانی لیڈروں اور قادیانی فرقہ کا معاملہ بھی عین یہی تھا۔ مگر یہاں ان کے ساتھ بالکل مختلف سلوک کیا گیا۔ صحیح طریقہ یہ تھا کہ ان کے معاملہ میں دعوت اور نصیحت کے اصول پر اصلاحی عمل کا آغاز کیا جاتا۔ مگر مسلم علماء نے یہاں نفرت اور مناظرہ بازی اور تکفیر اور بائیکاٹ سے اپنے عمل کا آغاز کیا۔ وہ پہلے ہی مرحلہ میں ان کے دشمن بن کر کھڑے ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قادیانیوں میں مزید شدت بڑھتی گئی، وہ قریب ہونے کے بجائے اور زیادہ دور ہو گئے۔ مسلمانوں نے محمد علی کلّے کو اپنا ہیرو بنایا۔ مگر انھوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنا ہیرو نہیں بنایا۔ حالانکہ محمد علی نے جو کارنامہ باکسنگ کے میدان میں انجام دیا تھا، وہی کارنامہ ڈاکٹر عبدالسلام نے سائنس کے میدان میں انجام دیا تھا۔ اگر مسلمان دونوں کے ساتھ یکساں اخلاقی سلوک کرتے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page