یمن کا سفر
Urdu book, p. 515
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے سیاہ فام باشندوں کو نیگرو کہا جاتا تھا۔ ان کی حیثیت وہاں بالکل غلام کی سی تھی ۔ اس کے رد عمل میں ان کے درمیان مختلف تحریکیں اٹھیں۔ ایک تحریک کے قائد ایلیا محمد تھے۔ انھوں نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنا مذہب اسلام بتایا۔ ان کے پیرو بلیک مسلم کہے جاتے تھے ۔ ۱۹۷۵ میں ایلیا محمد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ان کے لڑکے وارث دین محمد ان کے جانشین مقرر ہوئے ۔ وارث محمد نے جلد ہی پورے نظام کو بدل دیا۔ انھوں نے اپنے فرقہ کے لیے ”بلیک مسلم“ کے بجائے ”امریکن مسلم“ کی اصطلاح استعمال کی ۔ انھوں نے اس سے انکار کیا کہ ان کے والد پیغمبر تھے۔ انھوں نے خالص اسلام (Pure Islam) کو اختیار کرنے کا اعلان کیا ، یعنی وہی اسلام جو دوسرے تمام مسلمانوں کا ہے۔ انھوں نے امریکی حکومت سے وہ رقابت بھی ختم کر دی جو ان کے والد غیر ضروری طور پر قائم کیے ہوئے تھے ۔ فرقہ کے کچھ افراد نے ان کی مخالفت کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ ۱۹۶۰ میں ان لوگوں کی تعداد ۱۰ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ مگر ۱۹۸۵ میں اس فرقہ کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی ۔ اب ان کی تعداد چار ملین ہے ۔ اس فرقہ کے بارہ میں امریکہ میں بہت سی معلوماتی کتابیں شائع ہوئی ہیں ۔ ایک کتاب کا نام یہ ہے : Charles E. Lincoln, The Black Muslims in America, 1982 ایلیا محمد نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے ۔ اگر وہ ہندستان یا پاکستان جیسے ملک میں پیدا ہوتے تو ان کا مستقبل بالکل دوسرا ہوتا ۔ اب تک وہ اور ان کے متبعین کا قرار دے کر امت مسلمہ سے الگ کر دیے گیے ہوتے۔ مگر آج ایلیا محمد کے جانشین وارث محمد اپنے چار ملین پیروؤں کے ساتھ امت مسلمہ کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ڈاکٹر میاں محمد سعید (پروفیسر جارج میں یونیورسٹی، ورجینیا) نے بتایا کہ ۱۹۷۲ میں وہ نیوزیلا کے شہر کارکس (Carcas) گئے۔ وہ ہوائی اڈہ پر اترے تو وہاں آدمیوں کا بہت بڑا ہجوم اکٹھا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ سب کے سب مسلمان ہیں ۔ انھوں نے پوچھا کہ یہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہوائی اڈہ پر کیوں جمع ہیں ۔ مجمع میں سے ایک شخص نے کہا کہ آپ نہیں جانتے ۔ آج محمد علی آنے والے ہیں ۔ یہ سارے لوگ ان کے استقبال کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں ۔ یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader