یمن کا سفر
Urdu book, p. 518
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے اپنے قبولِ اسلام کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ دولت، شہرت، عزت سب کچھ میرے پاس موجود تھی، مگر دل کا سکون نہ تھا۔ ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ شراب اور منشیات کے ذریعہ سکون حاصل کرو۔ اسی دوران مجھے قرآن کا انگریزی ترجمہ مل گیا۔ اس کو پڑھ کر میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ سکون کا اصل ماخذ کیا ہے، قرآن نے میرے دل کے آخری گوشہ تک اپنی جگہ بنا لی۔ ہندوستان اور پاکستان کے "اسلام پسند" جو اپنے ملکوں کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہیں۔ وہ وہاں بھی سیاست اور جہاد کی تقریریں کرتے رہتے ہیں، مگر اس قسم کی تقریروں میں وہاں کے باشندوں کے لیے کوئی کشش نہیں۔ البتہ یوسف اسلام جیسے لوگوں کی آواز میں ان کے لیے بے پناہ کشش ہے۔ مغرب کے سامنے سیاسی انداز میں اسلام کو پیش کرنا مغرب کو اسلام سے دور کرنا ہے۔ البتہ اگر مغرب کے سامنے فطرت کے انداز میں اسلام کو پیش کیا جائے تو وہاں کا انسان اس کے اندر اپنے لیے بے پناہ کشش پائے گا۔ امریکہ میں اب خدا کے فضل سے بہت سے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو رسالہ کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو پڑھلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابراہیم مامون صاحب نیویارک میں مقیم ہیں۔ وہ عرصہ سے رسالہ کے قاری ہیں۔ اب انھوں نے پانچ کی تعداد سے الرسالہ کی ایجنسی شروع کردی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ امریکی پروفیسر تھامس (Prof. Thomas) ان کے ملاقاتیوں میں تھے، ان کو انھوں نے الرسالہ انگریزی دیا اور مرکز کی چھپی ہوئی انگریزی کت میں پڑھائیں۔ پروفیسر تامس کو یہ کتابیں بہت پسند آئیں۔ اب وہ اسلام سے مانوس نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے مختلف مقامات پر لوگ الرسالہ (اردو یا انگریزی) منگاتے ہیں۔ وہ ان کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو پڑھاتے ہیں۔ ہلٹن ہوٹل کے ایک بہت بڑے ہال کے باہر ایک خوبصورت بورڈ لگا ہوا تھا ۔ جس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا : بازار۔ اس کے اندر مختلف "اسلامی" چیزوں کی دکانیں تھیں۔ اس کے زیادہ بڑے حصہ میں کتابوں کے اسٹال تھے۔ دو بڑی میزوں پر اسلامی مرکز (دہلی) کا بھی اسٹال تھا جس پر تمام کتابیں اور الرسالہ (اردو، انگریزی) رکھے گئے تھے۔ بڑی تعداد میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader