یمن کا سفر
Urdu book, p. 519
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں نے اسے آکر دیکھا اور کتا بیں حاصل کیں۔ کئی لوگوں نے پورے پورے سیٹ حاصل کیے ۔ صغیر احمد اسلم صاحب یہاں کے ایک بڑے تاجر ہیں ۔ ان کو تذکیر القرآن بہت زیادہ پسند آئی۔ انھوں نے بار بار اصرار کیا کہ پوری تفسیر کو آڈیو کیٹ پر لے آئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں امریکہ میں لوگوں کے پاس پڑھنے کا وقت نہیں ، البتہ سننے کا وقت انھیں مل جاتا ہے۔ اور یہ وقت وہ ہے جب کہ وہ کار پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کے آدمی کے پاس اگر کوئی " خالی وقت " ہے تو وہی ہے جب کہ وہ کار سے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ وقت روزانہ اس کو کافی مقدار میں ملتا ہے ۔ اگر تذکیر القرآن کو کیٹ پر منتقل کر دیا جائے تو ہر آدمی اس کو اپنی کار میں رکھے گا اور سفر کے وقت روزانہ اس کو سنتا رہے گا۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو واپسی ہوئی۔ پین ایم کی فلائٹ نمبر ۱۲۰ کے ذریعہ لاس اینجلیس سے روانہ ہوا ۔ دن کے بارہ بجے جہاز کے اندر داخل ہوا تو بڑے جہاز کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں ۔ یہ غالبًا اس حادثہ کا اثر تھا جو ۲۱ دسمبر کو پین ایم کے جہاز کے ساتھ پیش آیا۔ انسان زندگی کے بعد پیش آنے والی موت سے ڈرتا ہے۔ مگر موت کے بعد پیش آنے والی موت سے کسی کو اندیشہ نہیں۔ اناؤنسر نے اعلان کیا کہ ہمارا جہاز ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا لندن کی طرف جا رہا ہے۔ سطح زمین پر بادل چھائے ہوئے تھے ، مگر ۳۳ ہزار فٹ اوپر پہونچ کر ماحول بدل چکا تھا۔ اب جہاز نیلے رنگ کے کھلے آسمان میں اڑ رہا تھا ۔ میں نے سوچا کہ زندگی کے تمام جھگڑے نچلی سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنے کو اٹھا کر بلندی پر لے جاسکیں تو تمام جھگڑے اور فساد اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔ فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے پین ایم کی فلائٹ نمبر ۶۶ کے ذریعہ سفر ہوا ۔ یہ یکم جنوری ۱۹۸۹ کی تاریخ تھی۔ جہاز میں بیشتر ہندوستانی مسافر تھے ۔ چنانچہ اناؤنسر کی زبان بدل گئی۔ اس سے پہلے انگلش اور جرمن میں اعلانات کیے جا رہے تھے ۔ اب جہاز کے اناؤنسر نے انگلش کے ساتھ ہندی میں اعلان شروع کر دیا : ہمیں آشا ہے کہ ہمارے ساتھ آپ کی یاترا سکھت رہے گی ۔ یدی آپ کسی قسم کی سہائتا چاہیں تو ہم آپ کی سیوا میں آپستیت ہیں۔ ہم اپنے سب یاتریوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader