Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ یہ کہہ اٹھیں کہ خدایا میری اس ٹوٹی پھوٹی نماز کو قبول کرلے۔ کیونکہ میری بظاہر صحیح نماز بھی اتنی ہی ٹوٹی پھوٹی نماز ہے جتنی کہ میری یہ نماز، تو آپ کا ذہن بالکل دوسری طرف پھر جائے گا اور آپ کو خدا کا رزق ملنے لگے گا۔ اسی طرح رمی اور دوسرے مواقع پر انسان کا بے پناہ ہجوم، منیٰ اور عرفات میں گرمی کی شدت ، پانی لینے کے لیے ایک کا دوسرے پر ٹوٹنا و غیرہ ۔ ان مواقع پر اگر آپ صرف سامنے کے انسان کو دیکھیں تو آپ کے اندر صرف غصہ اور نفرت کی آگ بھڑکے گی ۔ اس کے برعکس اگر آپ سوچنے لگیں کہ دنیا کی معمولی مصیبت کا یہ حال ہے تو آخرت کی بڑی مصیبت میں میرا کیا حال ہوگا تو اچانک آپ محسوس کریں گے کہ جو چیز بظاہر مصیبت نظر آ رہی تھی اس نے خدا کی رحمت بن کر آپ کے اوپر سایہ کر لیا ہے ۔ ہم ۶ ستمبر کو جدہ سے مکہ پہنچے تو ہمارے ساتھی محمد سلیمان القائد نے اپنے سامان کو چیک کرتے ہوئے پایا کہ وہ اپنا کیس (حقبہ) جدہ کے ہوائی اڈہ پر چھوڑ آئے ہیں ۔ اس میں ان کے بین ۲ ہزار ریال تھے ۔ یہ حادثہ بڑا سخت تھا۔ اس کے بعد میں مکہ میں ٹھہرا اور وہ امید و بیم کی کیفیت لے کر دوبارہ جدہ کے لئے روانہ ہوئے کہ شاید بیگ دوبارہ مل جائے۔ مجھے سخت تشویش تھی ۔ میں نماز کے لئے کھڑا ہوا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا : اللھم اجعلہ لنا درساً ولا تجعله لنا خاسارةً (یعنی خدایا! بیگ ضائع نہ ہو اور وہ دوبارہ مل کر ہمارے لئے سبق کا ذریعہ بن جائے ۔ دن بھر اسی قسم کی دعا دل سے نکلتی رہی ۔ محمد سلیمان القائد صاحب مغرب بعد جدہ سے لوٹے تو ان کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ بشرطہ کے دفتر میں بیگ مل گیا ۔ اس کی پوری رقم اور دوسرے کا غذات بدستور اس میں موجود تھے ۔ جدہ کے ہوائی اڈہ پر میری بھی دو چیزیں گم ہوئیں ۔ گھڑی اور قلم ۔ مگر وہ دوبارہ نہ مل سکیں ۔ ممکن ہے اس میں اس کا بھی دخل ہو کہ میں نے زیادہ تلاش نہیں کیا ۔ حج کے بہت سے پہلو ہیں مگر اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے ۔ آدمی جب سفر کر کے مقامات حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی کیفیات طاری ہوتی ہیں ۔ اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ” اپنی دنیا “ سے نکل کر " خدا کی دنیا " میں پہنچ گیا ہے ۔ وہ اپنے خدا کو ڈھونڈ رہا ہے وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے ۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے ۔ وہ اس کے حضور قربانی پیش کر رہا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page