Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ میں مجھے ایک اسپتال میں جانا پڑا ۔ قاعدہ کے مطابق میں نے پہلے ایک کاغذ لکھوایا جس میں میرا نام اور " الہند " لکھا ہوا تھا ۔ اس کے بعد مجھے دوسری منزل پر ایک کمرہ میں داخل کیا گیا جہاں ایک عرب ڈاکٹر بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میں وہی وحید الدین خان ہوں جس نے الاسلام تحدی لکھی ہے تو وہ بیتاب ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ میں نے الاسلام تحدی پڑھی ہے ۔ اس نے اپنے اسٹاف کے آدمیوں کو بلا کر کہا هذا شيئ كبيروله كتاب عظیم ۔ فارغ ہو کر میں اس کے کمرہ سے نکلا تو خلاف معمول وہ باہر تک پہنچانے آیا ۔ مکہ میں ہم جس مطوف (احمد حسین خوان ، شارع ابراھیم الخلیل) کے یہاں ٹھہرے تھے ، ان کا مکان باب العجرہ کی جانب حرم سے بہت قریب تھا ۔ اس کی وجہ سے بہت سا وقت حرم میں گزارنے کا اتفاق ہوا ۔ کعبہ کے پردہ تک پہنچ کر دعائیں مانگنے کی توفیق بھی ملی ۔ مذکورہ مکان میں پہلی منزل پر ہم سے ملے ہوئے کمرہ میں تیونس کی وزارت تعلیم کے (مفتش اول) مقیم تھے ۔ ہمارے کمرہ کا نمبر ۱ تھا ، ان کے کمرہ کا نمبر ۲ ۔ ۱۸ ستمبر کو ایک ملاقات میں انہیں معلوم ہوا کہ میں " وحید الدین خان “ ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے ۔ میں نے پوچھا ، کیا آپ نے الاسلام تحدی پڑھی ہے ۔ وہ فورا بولے ــــ نعم ، بل هو احسن ما قرات ( ہاں ، بلکہ وہ سب سے اچھی کتاب ہے جو میں نے پڑھی) انہوں نے بتایا کہ تیونس کے تمام مدارس ثانیہ میں آپ کی کتاب کو بطور ٹیکسٹ بک کے داخل کر دیا گیا ہے ۔ اور وہ ہمارے یہاں فلسفہ اور اسلامیات کے موضوع کے تحت باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے کمرہ سے اپنے صاحبزادہ کو بلایا اور کہا کہ ان سے ملو۔ یہ وقت کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔ (اکبر علماء العصر تیونس کے جریدہ الہدیہ کے لئے انہوں نے میرا انٹرویو بھی لیا ۔ حج میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جو طبیعت پر بے حد شاق معلوم ہوتے ہیں ۔ ایسے مواقع پر آدمی اگر اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرلے تو وہی چیز اس کے لئے رزق ربانی کا سبب بن جائے گی جو عام حالات میں صرف رزق نفسانی کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثلا آپ مسجد حرام میں نماز پڑھ رہے ہیں اور انسانوں کا ہجوم آپ کے سامنے اس طرح کھڑا ہو گیا کہ آپ نہ صحیح طور پر رکوع کر سکیں اور نہ صحیح طور پر سجدہ ۔ ایسے موقع پر اگر آپ سامنے والے انسان کو دیکھیں تو صرف غصہ اور نفرت پیدا ہو گا ۔ اس کے برعکس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page