Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اور سفر کے لئے نکلا ۔ مگر خدا نے عجیب و غریب طور پر ایشیا اور یورپ اور افریقہ کا سفر کراتے ہوئے مجھ کو حجاز پہنچا دیا تا کہ میں حج کی سعادت حاصل کر سکوں ۔ حج کرنے والا اگر چہ میں تھا ، مگر حج کرانے والا صرف خدا تھا۔ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہ تھا۔ حرم میں پہنچ کر جب کعبہ پر نظر پڑی تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبہ کو دیکھنا اور کعبہ کے پڑوس میں اپنے آپ کو پانا اتنا لذیذ ربانی تجربہ ہے جس کے اظہار سے میرا قلم عاجز ہے۔ اس غیر متوقع نعمت کو پا کر دل کی عجیب کیفیت ہوئی۔ میں نے کہا: خدایا ، میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا۔ گویا کہ میں حج کے بغیر مرنے پر راضی تھا۔ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے مجھ کو اس محرومی سے بچا لیا۔ کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کئے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں ۔ تاہم سب کچھ اس کے لئے ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے ۔ بے استعداد لوگوں کے لئے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں ۔ وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے جس طرح وہ ناقابل بیان ہیں اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابل بیان ہیں جو وہاں مجھے دیکھنے کو ملے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خریدنے میں ۔ کچھ لوگ دوسروں کو دھوکا دے کر اپنی پر جوش مذہبیت کا ثبوت دے رہے تھے حالانکہ اس قسم کی چیزیں حرم میں جائز نہیں۔ جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تاکہ آدمی ان میں محو ہو جائے وہاں لوگ انسانی جلووں میں گم تھے۔ جہاں خدا کے فرشتے اترے ہوئے تھے تاکہ لوگ ان سے باتیں کریں وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خریدنے کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہ تھی۔ جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انہیں پیچھے کر دے وہاں لوگ دوسروں کو دھکا دے کر آگے بڑھ جانے میں تیزی دکھا رہے تھے۔ مسجد حرام نہایت وسیع ہے اور ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہئے۔ مگر حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ، اس وسعت کے با وجود ، اس کو تنگ کر دیا ہے۔ تاہم ایک چیز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page