Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے شدت سے محسوس ہوتی ۔ اور وہ مسجد حرام کے باہر کا ماحول ہے۔ مسجد حرام کے باہر کھل ہوئی جگہ نہیں۔ مسجد حرام کو بستی سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ صرف ایک سڑک ہے۔ نہایت ضروری تھا کہ مسجد حرام کے چاروں طرف نہایت وسیع کھلا ہوا میدان ہوتا۔ مگر موجودہ حالت یہ ہے کہ مسجد حرام کو چاروں طرف سے ہوٹلوں کی اونچی عمارتوں کے جنگل نے گھیر رکھا ہے۔ سعودی حکومت نے اگرچہ اطراف کے بہت سے مکانات کو خرید کر حرم کی توسیع کی ہے مگر یہ کام ابھی اور کرنا باقی ہے۔ حاجیوں کو میں نے دیکھا کہ ارکان حج ادا کرتے ہوئے دہ بس رٹی ہوئی دعائیں دہراتے ہیں یا کتاب ہاتھوں میں لے کر اس سے پڑھتے رہتے ہیں۔ حج کی فقہی ادائیگی اگر چہ اس سے ہو جاتی ہے مگر حج کے دوران ذکر و دعا سے جو چیز مطلوب ہے اس کا حق اس طرح ادا نہیں ہوتا۔ حج کے دوران آدمی پر وہ کیفیت گزرنی چاہئے جو حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزری تھی۔ مثلاً جب آدمی سعی کرتا ہے تو اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلنے چاہئیں کہ خدایا تو نے اس سعی کے بعد ھاجرہ کے لئے برکت کا ابدی چشمہ جاری کر دیا تھا، میری سعی کو بھی تو ایسی سعی بنا دے جس کے بعد میرے لئے خیر کے ایسے چشمے جاری ہو جائیں جو دنیا سے آخرت تک مجھے برکت دیتے رہیں۔ السید سابق نے اپنی مشہور کتاب فقہ السنہ میں بجا طور پر لکھا ہے : ويستحب له ان يكثر من الذكر والدعاء طواف کرنے والے کو چاہئے کہ طواف کے وقت خوب ويتخير منهما ما ينشرح له صدرہ دون ذکر اور دعا کرے اور ان میں سے جن پر اسے شرح صدر ان يتقيد بشئ او يردد ما يقوله الملوفون ہو ان کو اختیار کرلے بغیر اسکے کہ اپنے کو کسی سے مقید فليس في ذلك ذكر محدود الزمنا الشارع به کرلے یا معلین کے کہے کو دہراتا رہے۔ کیونکہ طواف میں وما يئقوله الناس من اذکار و ادعية فی کوئی متعین ذکر نہیں ہے جس کا شارع نے ہم کو پابند کیا ہو۔ انشوط الاول والثانی وھكذا افليس له اور عوام جو اذکار اور دعائیں شوط اول شوط ثانی وغیرہ اصل ولم يحفظ عن رسول الله صلى الله علیہ میں پڑھتے ہیں ان کی کوئی اصل نہیں۔ اور اس سلسلے وسلم شئ من ذلك فلطائف ان يدعوا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ثابت نہیں۔ طواف نفسه و لاخوانه بما شاء من خیری الدنیا کرنے والے کو چاہتے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بھائیوں کیلئے والآخرة (المجلد الاول ، صفحه ۴۶۹) جس طرح چاہے دنیا اور آخرت کی بہتری مانگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page