حج کا سفر
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
لا يستطيع ان يثبت علی الراحلة افاج عنے۔ میرا ایک بوڑھا باپ ہے، وہ سواری پر نہیں قال نعم۔ وذلك في حجة الوداع (رواه الجماعة) بیٹھ سکتا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ حج بدل کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مر گیا ہو اور یہ وصیت کی ہو کہ میری طرف سے حج ادا کر دینا۔ یہ صورت استنباطی طور پر نکلتی ہے امام مالک کے نزدیک مردہ کی طرف سے حج بدل اسی وقت ہے جب کہ موت سے پہلے اس نے وصیت کی ہو۔ قال مالک : اما بحج عنه اذا ا وصی ، اما اذا الم یوص فلا حج عنہ۔ لان الحج عبادة تغلب فيه جانب البدنية فلا يقبل النيابة، فقہ السنة، المجلد الاول صفحہ ۶۳) حج ہر صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے (الحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة ، (بخاری ومسلم) حضرت عمروبن العاص کی ایک روایت ان الفاظ میں آتی ہے : لما جعل اللہ الاسلام فی قلبی اتیت جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈالاتو میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ابسط یدک فلا بایعک۔ قال فبسط کہ اپنا ہاتھ پھیلا ئیے تاکہ میں بیعت کروں۔ وہ فقبضت یدى فقال مالک یا عمرو۔ قلت کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہاتھ پھیلایا۔ مگر میں اشترط۔ قال تشترط ماذا۔ قلت ان یغفرلی۔ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ آپ نے کہا اے عمرو قال اما علمت ان الاسلام یهدم ما قله ایسا کیوں ۔ میں نے کہا کہ میری ایک شرط ہے۔ وان الہجرة تهدم ما قبلها وان الحج آپ نے فرمایا ، تمہاری کیا شرط ہے۔ میں نے یہدم ما قبلہ (رواه مسلم) کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اور ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ حج مبرور کو اکثر لوگ حج مقبول کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو ( الحج الذی لا يخالطہ اثم)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader