حج کا سفر
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
حسن بصری تابعی نے کہا ہے کہ حج مبرور وہ ہے جس سے آدمی اس طرح لوٹے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے (ان یرجع زاهد آفى الدنيا راغبا في الآخرة) حقیقت یہ ہے کہ حج کو اگر صحیح شعور اور جذبہ کے ساتھ کیا جائے تو نہ صرف دورانِ حج آدمی گناہوں سے بچار ہے گا بلکہ اس طرح لوٹے گا کہ ہر برائی سے اس کا دل متنفر ہو اور ہر بھلائی کی طرف اس کے اندر رغبت پیدا ہو چکی ہو۔ میں جب بھی حرم میں گیا تو حجر اسود کے پاس بھیڑ دیکھی اس لئے میں نے حجر اسود تک جانے کی کوشش نہیں کی۔ طواف بھی اشارہ کے ذریعہ کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حجر اسود کی صورت میں اسلام کے اندر بھی ایک بت موجود ہے۔ مگر یہ بات سراسر واقعہ کے خلاف ہے۔ بت (صنم) کس چیز کا نام ہے ۔ یہ دراصل خدا کے شریکار مقرر کرنے کا نام ہے۔ کچھ انسانی یا غیر انسانی ہستیوں کو خدا کا شریک فرض کر لیا جاتا ہے اور ان کی صورت بناکر انہیں پوجا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی "خداستے واحد" کا کوئی بت موجود نہیں۔ جو قومیں ایک خدا سے برتر کے ساتھ بہت سے دوسرے خداؤں کو مانتی ہیں ان کے یہاں صرف دوسرے خداؤں کے بت پائے جاتے ہیں ، خدا ئے برتر کا کوئی بت ان کے یہاں نہیں پایا جاتا کیونکہ بت پرستی لازماً "شرکت" کو چاہتی ہے ، شرکت کے بغیر بت پرستی کا کوئی وجود نہیں ۔ اسلام میں شرکت کا کوئی تصور نہیں۔ اسی لئے حجر اسود کے ساتھ بھی بت کا کوئی تصور نہیں۔ حجر اسود صرف ایک علامتی پتھر ہے۔ مومن اس پتھر کو چھو کر یا اس کی طرف اشارہ کرکے علامتی طور پر گویا خدا کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کی براہ راست بیعت ہے ، جب کہ دوسری بیعت بالواسطہ بیعت ہوتی ہے۔ حجر اسود خدائے واحد سے عہد کی علامت (symbol) ہے ۔ جب کہ بت خدائے واحد کے سوا دوسرے شریکوں کی شکل (image) ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حجر اسود کو بت سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے شراب کو خمر کے ہم معنی سمجھ لینا ۔ اس سلسلے میں یہاں میں ایک لطیفہ بیان کروں گا ۔ ایک بار دہلی میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا؛ عرب تو کھلم کھلا شراب پیتے ہیں۔ حتی کہ میں نے حرم کی سیڑھیوں پر لوگوں کو شراب پیتے ہوئے دیکھا‘ اس عجیب و غریب قسم کی غلط فہمی کا راز میری سمجھ میں اس وقت آیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader