آغاز کلام
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
آغاز کلام سفر نامہ لکھنے کا رواج بہت قدیم ہے ۔ ہومر (آٹھویں صدی قبل مسیح) کے فرضی سفر نامہ اوڈیسی (Odyssey) سے لے کر اب تک پچھلے ڈھائی ہزار سال کے اندر بے شمار سفر نامے ہر زبان میں لکھے جا چکے ہیں۔ تاہم ایک مورخِ ادب کے الفاظ میں ، یہ بات بڑی عجیب ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب کہ سفر بہت بڑھ چکا ہے، سفری ادب کا معیار پہلے کے مقابلہ گر گیا ہے : The literature of travel has declined in quality in the age when travel has become most common — the present. (10/1085) عرب سیاحوں میں ابن بطوطہ (۱۳۶۸-۱۳۰۴ء) اور مغربی سیاحوں میں مارکوپولو (۱۲۵۲-۱۳۲۴ء) نے اس معاملہ میں غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ ان کی فراہم کردہ جغرافی، سماجی اور ثقافتی معلومات سے صدیوں تک لوگ استفادہ کرتے رہے ۔ ابن بطوطہ غالباً قرونِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سیاح تھا۔ اس نے ۳۰ سال کی مدت میں تقریباً ۷۵۰۰۰ ہزار میل کا سفر کیا اور قدیم دنیا کے اکثر حصوں کو دیکھا ۔ اس کی کتاب (رحلۃ) بے حد دل چسپ ہے اور اس کا ترجمہ دنیا کی اکثر زبانوں میں ہو چکا ہے ۔ سفر نامہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پڑھنے والے اس کو دوسری چیزوں کے مقابلہ میں زیادہ دل چسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ وہ گویا ایک حقیقی ناول ہے جو اکثر اوقات عام ناول سے زیادہ دلچسپ ہوتا ہے ۔ گوٹے نے ۸۸-۱۷۸۶ء میں جرمنی سے اٹلی کا سفر کیا تھا ۔ اس سفر پر اس نے جو کتاب لکھی ہے ، وہ اس کی ناولوں سے بھی زیادہ پڑھی گئی ۔ راقم الحروف کے سفر نامے الرسالہ میں اس کے آخری صفحات میں شائع ہوتے ہیں ۔ مگر اکثر قارئین کا کہنا ہے کہ جب انھیں الرسالہ ملتا ہے تو وہ سفر نامہ کو سب سے پہلے پڑھتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں سفر کی سہولتوں نے سفر کی ایک نئی قسم کا اضافہ کیا ہے ۔ یہ ہے بین اقوامی کانفرنسوں کے لیے سفر کرنا۔ راقم الحروف کے سفر سب کے سب اسی نوعیت کے ہیں۔ میں نے ہر سفر کسی کانفرنس کی دعوت ہی پر کیا ہے ۔ تاہم میں جہاں بھی گیا ، اپنے ذوق کے مطابق ہر قسم کی باتیں جاننے کی کوشش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader