Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

ثانی اثنین نے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ نورالدین آزاد صاحب (بمبئی) حج کے لئے جا رہے ہیں۔ اس لئے ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ میں نے کئی دن ادھر ادھر دیکھا۔ مگر وہ نظر نہ پڑے ۔ اور ان کی قیام گاہ کا مجھے علم نہ تھا۔ آخر میں مایوس ہو گیا۔ اور بطور خود سمجھ لیا کہ اب ان سے مکہ میں ملاقات نہ ہو سکے گی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ ۴ ستمبر کی شام کو میں حرم میں لیٹا ہوا تھا کہ نیند آگئی۔ خواب میں دیکھا کہ میں حرم میں داخل ہوا ہوں تو سامنے نورالدین آزاد صاحب کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ بعینہ اسی صورت میں اگلے دن (یکم اکتوبر کو) پیش آیا۔ میں حرم میں داخل ہو کر ابھی صحن میں کھڑا تھا کہ اچانک نورالدین آزاد صاحب نظر پڑ گئے۔ ان کے ساتھ بمبئی کے کچھ اور حجاج سے ملاقات ہوئی۔ ۴ اکتوبر ۱۹۸۲ کی شام ہم نے طواف وداع کیا ، اور رات کو مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ کعبہ کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی۔ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا۔ قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطن اصلی سے نکل کر اپنے دار الہجرت کی طرف جا رہا ہوں۔ اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجد حرام سے رخصت ہو کر ۴ اکتوبر کی شب کو مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ مکہ میں حراء وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ مدینہ میں مسجد نبوی کے علاوہ بدر، جبل احد ، مسجد قبا ، جبل جن ، وادی عقیق ، جنت البقیع وغیرہ مقامات دیکھے ۔ مدینہ کی الجامعة الاسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی) بھی دیکھی۔ وہاں کے اعلی ذمہ داروں (رئیس اور امین عام وغیرہ) سے ملاقات ہوئی۔ یہ سب لوگ الاسلام متحدی کو پڑھے ہوئے تھے۔ ۹ اکتوبر ۱۹۸۲ کو مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے سامنے ایک تقریر ہوئی ۔ زیادہ تر ہندوستانی اور کچھ عرب طلبہ اجتماع میں شریک تھے ۔ تقریر کا موضوع یہ تھا کہ امت مسلمہ کا اصل مقصد دعوت الی اللہ ہے نہ کہ اس قسم کی سیاسی اور قومی سرگرمیاں جو آج تمام مسلم ملکوں میں پائی جارہی ہیں ۔ حرم نبوی میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی ۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، میں تیرے رسول پر صلوة وسلام بھیجتا ہوں۔ مجھ کو اپنے رسول کی امت میں شامل کرلے ۔ مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لے جن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page