حج کا سفر
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
تسلیم کرنے پر راضی نہ تھا۔ انور سادات نے 1978ء میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدہ کے تحت اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا تو تمام دنیا کے مسلمانوں نے انور سادات کو غدار کہا، حتیٰ کہ اسے قتل کر ڈالا۔ مگر آج فلسطینی مجاہدوں سمیت تمام مسلمان ذہنی طور پر اس کے لئے راضی ہو چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیں۔ ایسی ذلت آمیز شکست مسلمانوں کو اپنی طویل تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی۔ مگر حج کے عالمی اجتماع میں اس کا کوئی قابلِ مشاہدہ اثر پانا نا ممکن تھا۔ میرے علم کے مطابق صرف یہ واقعہ ہوا کہ کچھ ایرانیوں نے مٹی کی سڑکوں پر "مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگائے۔ مگر جن لوگوں کو مسلم ممالک کی سیاست کا اندازہ ہے انہیں یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی کہ یہ نعرہ حقیقتاً سعودی حکومت کے خلاف تھا نہ کہ اسرائیلی حکومت کے خلاف۔ یہ مجاہدینِ اسلام اگر واقعہ اسرائیل کی ہلاکت چاہتے ہیں تو کیوں نہ انہوں نے اپنی فوجیں لبنان یا اسرائیل کے اندر داخل کر دیں۔ کیوں ایسا ہے کہ وہ مسلم ملک میں داخل ہو کر اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔ اس الم ناک صورتِ حال کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف مسٹر صادق نیہوم نے اپنی ایک گفتگو میں اشارہ کیا۔ صادق نیہوم عربی سمیت چھ زبانوں کے ماہر ہیں اور اس وقت جنیوا میں مقیم ہیں ۔ انہوں نے کہا : اسرائیل ہم کو نہیں مارتا ، ہم تو پہلے ہی سے مرے ہوئے لوگ ہیں (اسرائیل لم تقتلنا، نحن موتى من قبل) ہماری قیام گاہ حرم سے بہت قریب شارع ابراہیم الخلیل پر تھی۔ چنانچہ کھانے اور سونے کے علاوہ میرا بیشتر وقت حرم میں گزرتا تھا۔ میرا معمول تھا کہ باب الہجرہ کے پاس زمزم کے پانی سے وضو کرتا اس کے بعد سیر ہو کر زمزم پیتا اور پھر حرم میں داخل ہو جاتا۔ اکثر اوپر کے حصہ میں ، کیونکہ اوپر کے حصہ میں زیادہ سکون رہتا تھا۔ وہاں نماز پڑھتا ، تلاوت کرتا ، کعبہ کو دیکھتا۔ روزانہ گھنٹوں اس طرح گزر جاتے کہ وقت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دیر ہو چکی ہو، جب لوٹتا تو معلوم ہوتا کہ ابھی طبیعت سیر نہیں ہوئی۔ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں چونکہ افریقہ کی طرف سے انٹرنیشنل پاسپورٹ پر یہاں آیا تھا۔ اور عربوں کے ساتھ ٹھہرا تھا، اس لئے ہندوستانی حاجیوں سے میری واقفیت نہ ہو سکی۔ البتہ میرے لڑکے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader