Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

کو میں دہلی پہنچنے والا ہوں۔ ہوائی جہاز کیا ہے، قدرت کی نقل۔ ہوائی جہاز دراصل قدرتی چڑیا کی مشینی نقل ہے۔ قدرت نے ایک چڑیا کے ہوائی سفر کے لئے جو اصول مقرر کئے ہیں اسی کو انسان کے ہوائی سفر میں استعمال کرنے کا نام ہوائی جہاز ہے۔ انسان کا یہ تضاد بھی کیا عجیب ہے کہ وہ اپنی دنیا کے سفر کے لئے قدرت کی نقل کرنے پر بخوشی آمادہ ہو جاتا ہے۔ مگر آخرت کے سفر کے لئے وہ قدرت کی نقل کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ مادی معاملات میں وہ جس معبود کا پرستار ہے۔ اسی معبود کی پرستاری روحانی اور اخلاقی معاملات میں اس کو منظور نہیں۔ طرابلس میں ہمارا قیام ہوٹل الکبیر (کمراه نمبر ۴۰۸) میں تھا۔ جب میں اس کمرہ میں داخل ہوا تو یہ کمرہ مجھے بالکل اجنبی معلوم ہوا تھا۔ مگر دو ہفتے بعد ہم جنوری ۱۹۸۳ء کو جب میں اس کمرہ سے رخصت ہو کر نکلا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں اور کمرہ دونوں ایک دوسرے سے مانوس ہو چکے ہیں۔ یہی انسان کی بنیادی کمزوری ہے۔ وہ نئی چیز سے بھاگتا ہے اور جس چیز سے زیادہ عرصہ تک وابستہ رہے اس کو حقیقی سمجھنے لگتا ہے۔ سچائی کو پانے کے لئے آدمی کا یہ مزاج اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ قدیم چیز کو محض انس کی بنا پر پکڑے رہتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بے حقیقت ہو۔ وہ نئی چیز کو صرف عدم انس کی بنا پر اختیار نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی ہی بڑی سچائی ہو۔ حتیٰ کہ دلائل جب اس کے ذہن کو مفتوح کر لیتے ہیں اس وقت بھی وہ اقدام کرنے سے ہچکچاتا ہے۔ آدمی اکثر حالات میں اپنے مانوس گھروندوں کو حقیقی سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت وہ ہے جو دلیل سے ثابت نہ ہو نہ کہ وہ جس سے مانوسیت کی بنا پر آدمی متعلق ہو جائے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۸۲ کی شام کو المجلس العالمي للدعوة الاسلامیة کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ تلاوت قرآن کے بعد ضروری کارروائی ہوئی۔ ۲۳ دسمبر کو مجلس کے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے۔ پورا دن اس میں صرف ہو گیا۔ ۲۴ دسمبر کو دعوتی مسائل پر گفتگو شروع ہوئی۔ ایک عرب نوجوان (الساح علی حسین) نے موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے مسائل کے بارہ میں تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کی تقریر کا عنوان تھا : مشكلات الدعوة الاسلامية في العالم المعاصر۔ آخر میں انھوں نے کہا : آپ کی یہ مجلس اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر اس قابل ہے کہ وہ متعین کرے کہ ہم کہاں سے شروع کریں (ان مجلسکم هذا الهو المؤهل لعلمه و خبر نہ لان يجد لنا من اين نبدأ) اس سلسلے میں مختلف ممبروں نے اپنے اپنے خیالات پیش کئے ۔ میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page