حج کا سفر
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے پہلا اور بنیادی کام جدید تقاضوں کے لحاظ سے اسلامی لٹریچر کی تیاری اور اس کی اشاعت ہے۔ مجلس عالمی کے اس اجتماع میں تین زبانیں رائج تھیں ___ عربی، انگریزی، فرانسیسی۔ میں نے اپنے خیالات انگریزی زبان میں پیش کئے ۔ مقابل کے صفحہ پر میری تقریر کا خلاصہ نقل کیا جا رہا ہے۔ بعض ممبروں کا خیال تھا کہ موجودہ مسلمان دنیا بھر میں مکروروں کی تعداد میں دشمنانِ اسلام کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے ہم کو انہیں بچانے کی فکر کرنا چاہیئے نہ یہ کہ ہم مسلمانوں کی تعداد بڑھانے میں لگ جائیں۔ میں نے کہا کہ دعوتِ اسلام کا مسئلہ مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ شہادت کی ذمہ داری ادا کرنے کا مسئلہ ہے۔ حضرت موسیٰ جب مصر میں تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر وہاں کی قومی حکومت سخت مظالم کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے ایک طرف بنی اسرائیل کو بچانے کی فکر کی ، اسی کے ساتھ عین اسی وقت انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو حق کا پیغام دیا۔ سب سے اہم بات جو جاتے کی ہے وہ یہ کہ ختمِ نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان پر خاص طور پر ان کے علماء پر یہ لازم ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر یہ ذمہ داری ان سے ساقط نہیں ہو سکتی۔ تاہم بحثوں اور گفتگوؤں میں لوگوں کا رخ دعوت سے زیادہ دفاع کی طرف رہا۔ آجکل پوری مسلم دنیا میں یہ حال ہے کہ ’’دشمنانِ اسلام‘‘ کے پیدا کردہ مسائل سے لوگوں کے ذہن اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ وہ دعوت کے پہلو پر زیادہ سوچ نہیں پاتے۔ حریف کو مدعو کی نظر سے دیکھنا ان کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ ایک بار اس موضوع پر گفتگو تھی کہ جہاد سے مراد اصلاً جہادِ دعوت ہے نہ کہ قتال۔ اس پر ایک صاحب (مبارک قسم الله زايد سودانی) بولتے ہوئے کافی جذباتی ہو گئے ۔ ان کے نزدیک اس قسم کی باتیں قتال سے فرار کا فلسفیانہ بہانہ تھیں۔ تقریر کے دوران ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا : این سیفنا الذي اخفيناه او مین روح قالنا الذی اهلنا 5 - یہ جملہ کہتے ہوئے وہ بے اختیار رو پڑے اور آگے اپنی تقریر جاری نہ رکھ سکے۔ بعض لوگوں نے شدت کے ساتھ اس پہلو کی طرف زور دیا کہ ہم لوگ بات کرنے میں بہت آگے ہیں۔ مگر عمل کرنے میں اتنا ہی پیچھے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑے جوش کے ساتھ کہا : کلنا جید في النظرية وكلنا عاجز فی التطبیق میرا نقطہ نظریہ تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی خود ’’نظریہ‘‘ ہی واضح طور پر سامنے نہ آسکا۔ اگر فی الواقع صحیح اور قابلِ عمل نظریہ لوگوں کے سامنے آجائے تو عمل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader