حج کا سفر
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر ۸ دسمبر ۱۹۸۲ کو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ ریسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی۔ ” ہم وزارت خارجہ سے بول رہے ہیں “۔ یہ حکومت ہند کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی سکریٹری BSM کا ٹیلی فون تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کی وزارت تعلیم کے تحت مالے میں ایک سیمنار ہو رہا ہے جس میں انہوں نے مجھے شرکت کی دعوت دی ہے۔ سیمنار کا عنوان ہے : اسلامی دعوت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں۔ The Cell for Islam in South and Southeast Asia. انہوں نے کہا کہ اگر آپ شرکت کی منظوری دے دیں تو ہم حکومت مالدیپ کو ٹیلكس کے ذریعہ پیغام بھیج دیں تاکہ وہ آپ کے سفر کے انتظامات کر سکیں ۔ میں نے شرکت منظور کرلی ۔ تا ہم جلد ہی بعد مجھے لیبیا کا سفر پیش آگیا اور سیٹ کا رزرویشن وقت پر نہ ہو سکا۔ میں لیبیا کے سفر سے واپس آیا تو مالدیپ کے سیمنار کی تاریخ میں صرف تین دن باقی تھے ۔ ۹ جنوری کو روانہ ہو جانا میرے لئے بالکل ضروری تھا۔ معلوم ہوا کہ مالدیپ میں یہ سیاحوں کی آمد کا موسم ہے ، اس لئے مدراس سے مالے ( دارالسلطنت مالدیپ ) جانے والے جہاز کی تمام سیٹس بک ہو چکی ہیں۔ میرا نام ویٹنگ لسٹ میں نمبر ۴۶ پر ہے ۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ اب مالدیپ کا سفر ممکن نہ ہو سکے گا۔ میں نے اپنے آدمی کو وزارت خارجہ ( نئی دہلی ) کے دفتر میں بھیجا ۔ ۸ جنوری کی شام کو ہمارا آدمی وزارت خارجہ کے دفتر میں اس وقت پہنچا جب کہ وہاں دفتر کے کام کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔ اور ڈپٹی سکریٹری اپنی کرسی سے اٹھ چکے تھے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے کیس کو سنا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ اپنے اسٹینو کو بلایا اور اسی وقت ایک خط تیار کر کے ہمارے آدمی کے حوالے کیا۔ اور کہا کہ اس کو لے کر انڈین ایرلائنز کے مینجر سے ملیں ۔ چنانچہ وہ خط انڈین ایرلائنز کے مینجر کو دکھایا گیا۔ اس نے فوری طور پر مدراس کے دفتر کو ٹیلكس کیا اور کہا کہ ” مسٹر خان “ کو اعلیٰ ترین ترجیح کی بنیاد پر مالے جانے والے جہاز میں جگہ دی جائے ۔ اس کے بعد ہمارا آدمی واپس آگیا۔ چند گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ انڈین ایرلائنسر ( نئی دہلی ) کا ٹیلی فون تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی سیٹ مدراس سے کنفرم ہو گئی ہے ۔ اس میں صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader