حج کا سفر
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
اتنا اضافہ کروں گا کہ یہ سب جس نے کرایا اس کا نام مسٹر آر۔ ایم اگروال تھا! اس خط کا عکس اگلے صفحہ پر درج کیا جا رہا ہے۔ ہماری پرواز ۹ جنوری کو صبح ساڑھے چھ بجے تھی۔ میں ہوائی اڈہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے تمام پروازیں تین گھنٹہ کے لئے موخر کر دی گئی ہیں۔ یہ نیا مسئلہ تھا۔ کیونکہ دہلی سے تین گھنٹہ دیر سے روانگی کا یہ مطلب تھا کہ مدراس سے دوسرا جہاز نہ ملے۔ اسی جیس ہیں میں پالہم پر اپنے جہاز پر سوار ہو گیا۔ مجھ سے ملی ہوئی سیٹ پر مسٹر سبرامنیم تھے جو دہلی الیکٹرک سپلائی انڈر ٹیکنگ DESU میں انجینئر ہیں۔ ان کو جب میرا قصہ معلوم ہوا تو فوراً انہوں نے دوڑ دھوپ شروع کر دی۔ وہ کئی بار جہاز کے پائلٹ سے ملے اور اس سے کہا کہ مدراس کے اسٹیشن کو پیغام بھیج کر جہاز کی پوزیشن معلوم کریں۔ پائلٹ نے بھی پوری ہمدردی ظاہر کی اور دوران پرواز اگلے اسٹیشن سے وائرلیس کے ذریعہ ربط قائم کیا۔ مگر ادھر سے یہ پیغام ملا کہ "ہوائی جہاز مدراس سے روانہ ہو چکا ہے۔“ میں مدراس پہنچا تو حسب قاعدہ ہوائی کمپنی نے ہوٹل (اڈیار گیٹ ہوٹل) میں میرے قیام و طعام کا انتظام کیا۔ مگر اگلے جہاز سے سیٹ کے رزرویشن کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ مسٹر سبرامنیم نے دوبارہ میرا ساتھ دیا۔ وہ ہوٹل سے مجھ کو لے کر انڈین ایئر لائنز کے دفتر میں گئے۔ اور وہاں ڈیوٹی آفیسر کو پوری صورت بتائی۔ ڈیوٹی آفیسر مسٹر سوامی ناتھن تھے۔ انہوں نے نہایت دلچسپی کا اظہار کیا۔ میری روٹ کو کو ملبو سے بدل کر تر پوندرم کے راستہ سے کیا۔ تریوندرم کے راستہ سے جانے والے جہاز کی بھی تمام سیٹیں بھر چکی تھیں۔ مگر انہوں نے ذمہ داروں سے اصرار کر کے مجھے اس میں سیٹ دلوائی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مالدیپ کی وزارت تعلیم کو ٹیکس کے ذریعہ پیغام بھجوایا کہ میں خراب موسم کی وجہ سے مدراس میں رک گیا ہوں اور ۱۰ جنوری کو فلائٹ نمبر ۵۶۳ سے مالے پہنچوں گا۔ مدراس میں مجھے جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا وہاں دوسری چیزوں کے علاوہ بائبل (ایڈیشن ۱۹۸۰) کا ایک خوبصورت نسخہ بھی موجود تھا، اس نسخہ پر لکھا ہوا تھا: This Bible is placed by the Gideon یہ بائبل یہاں جیڈین کی طرف سے رکھی گئی ہے۔ ۱۸۹۸ میں دو مسیحی مسافر سکن سن (امریکہ) کے ایک ہوٹل میں ملے ۔ دونوں ایک دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader