Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر کریں تو آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ انگریزی میں بولیں گے ۔ اس ملک میں انگریزی زبان اب بھی اونچی حیثیت کی نشانی بنی ہوئی ہے ۔ اس صورت حال کی وجہ سے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں نہیں بلکہ غیر ملک میں ہیں ۔ اگرچہ اکثر انگریزی بولنے والے غلط انگریزی بولتے ہیں ۔ مگر اپنی پوزیشن کو نمایاں کرنے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں کہ ملکی زبان جانتے ہوتے انگریزی زبان میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب کہ ملکی زبان علمی اور ادبی اعتبار سے انگریزی زبان جیسا مقام حاصل کرلے۔ محض قومی اپیلوں سے شاید اس کا ختم ہونا ممکن نہیں۔ ۱۰ جنوری کی دوپہر کو ہمارا ہوائی جہاز مالدیپ کے اوپر اڑ رہا تھا۔ دو ہزار چھوٹے چھوٹے جزیروں کا یہ ملک ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہے جس کے ہرے ہرے دانے لوٹ کر سمندر میں بکھر گئے ہوں۔ ہوائی اڈہ خود بھی ایک چھوٹے جزیرہ پر ہے۔ یہاں صرف ہوائی اڈہ ہے۔ یہاں سے اسٹیمر پر ہم مالے نامی جزیرہ پر گئے ۔ جو مالدیپ کا دارالسلطنت ہے۔ مالے ایک میل لمبا ڈیڑھ میل چوڑا جزیرہ ہے۔ دو ہزار میں سے دوسو جزیرے آباد ہیں۔ کل آبادی تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔ یہاں کی آبادی میں صد فی صد مسلمان ہیں۔ یہاں کوئی بھی غیر مسلم شہری نہیں۔ مالے میں میرا قیام سوسن گی (کمرہ نمبر ۱۰) میں تھا۔ سیمنار کی کارروائی ۱۰ - ۱۱ - ۱۲ جنوری ۱۹۸۳ کو ہوئی۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سے متعلق چار مقالے پیش ہوتے ۔ یہ مقالے مالدیپ کی وزارت تعلیم کی سیکریٹریٹ نے تیار کئے تھے۔ ہر مقالہ پہلے پڑھا جاتا اور اس کے بعد شرکا اس پر اظہار خیال کرتے تھے۔ یہ اظہار عربی یا انگریزی زبان میں کیا گیا۔ میں نے ان مقالوں پر جو اظہار خیال کیا وہ انگریزی زبان میں تھا جو سیمنار کی فائنل رپورٹ میں شائع ہو چکا ہے۔ ۱۱ جنوری کی شام کا کھانا دوسرے جزیرہ پر رکھا گیا ۔ وہاں ہم لوگ اسٹیمر پر گئے۔ یہ جزیرہ صرف سیاحوں کے لئے ہے۔ یہاں سیاحوں کے نقطہ نظر سے عمارتیں اور ہوٹل تعمیر کئے گئے ہیں۔ رات کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم سمندر کے نیچے ایک سبزہ زار تختہ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیمنار میں چار مقالے پڑھے گئے اور اس کے بعد شرکا نے ان پر اظہار خیال کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page