حج کا سفر
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
مقالوں کے عنوانات حسب ذیل تھے : ۱۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت ۔ ۲۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مخالف اسلام سرگرمیاں ۔ ۳۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مسلم اقلیتوں کا مسئلہ ۔ ۴۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں آئندہ اشاعتِ اسلام کی کیا تدابیر اختیار کی جائیں۔ سیمنار میں مذکورہ علاقہ میں واقع تمام ملکوں کے نمائندے شریک ہوتے۔ جن ممالک کے نمائندے شریک ہوتے ان کے نام یہ ہیں : مالدیپ، ہندستان ، سری لنکا، بنگلہ دیش ، پاکستان ، ملایشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، برما، سنگاپور، ماریشس ۔ مالدیپ مجمع الجزائر ہے ۔ اور بحر ہند کے وسط میں واقع ہے ۔ تقریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبائی اور تقریباً سواسو کلومیٹر کی چوڑائی میں دو ہزار جزیرے پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جزیرے اتنے چھوٹے ہیں کہ انکا مجموعی زمینی رقبہ صرف تین سو مربع کلومیٹر ہوتا ہے ۔ ان جزائر میں تقریباً دوسو جزیرے آباد ہیں۔ مالدیپ کی آبادی صرف ڈیڑھ لاکھ ہے۔ تمام کے تمام باشندے مسلمان ہیں ۔ یہاں کے قانون کے مطابق کسی غیر مسلم کو مالدیپ کی شہریت نہیں دی جاسکتی ۔ پہلے مالدیپ کے باشندے بدھسٹ تھے۔ بارہویں صدی عیسوی میں یہاں کے باشندے ایک ساتھ مسلمان ہو گئے ۔ انہوں نے عرب تاجروں کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ۵۳۱ء میں مراکش سے ایک عرب تاجر یہاں پہنچا جس کا نام ابو البرکات یوسف علی بربری تھا ۔ اس نے تبلیغ کی۔ اس کی تبلیغ سے مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہو گئے ۔ مالدیپ کی قدیم تاریخ معلوم نہیں۔ یہاں کی ابتدائی تاریخ کا ذریعہ وہ عرب مورخین یا سیاح ہیں جو مالدیپ آئے ۔ المسعودی ، ۹۴۷ء میں مالدیپ پہنچا۔ البیرونی نے ۱۰۳۰ء میں مالدیپ کی سیاحت کی۔ الادریسی بارہویں صدی کے آغاز میں مالدیپ آیا۔ ابن بطوطہ کی مالدیپ میں آمد ۱۳۴۴ء میں ہوئی ۔ فرانسیسی ملاح فرانکونی لیول (Francois Pyarad de Lavel) ۱۶۰۱ء میں مالدیپ پہنچا۔ ان لوگوں نے اپنی سیاحتی ڈائری میں مالدیپ کے کچھ احوال لکھے ہیں جن تاج الدین پہلے مالدیپی ہیں جنہوں نے ۲۷ ۱۹ء میں مالدیپ کے حالات قلم بند کئے۔ مالدیپ میں ۱۱۲۱ء سے لے کر ۱۵۵۸ء تک سلاطین کی حکومت تھی ۔ اس کے بعد پرتگالیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader