Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

نے مالدیپ پر حملہ کیا ۔ ۱۵۵۸ء میں مالدیپ پر پرتگالیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد محمد خطیب کی رہنمائی میں آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی ۔ جلدی پرتگالیوں کو واپس جانا پڑا ۔ اور پندرہ سال بعد ۱۵۸۵ء میں سلطان کا راج دوبارہ قائم ہوگیا ۔ ۱۹۸۸ء میں مالدیپ برطانی راج کے ماتحت آگیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پرامن طور پر مالدیپ کی آزادی کی کوشش شروع ہوئی ۔ حکومت برطانیہ اور حکومت مالدیپ کے درمیان تقریباً دس سال کی گفتگو کے بعد جولائی ۱۹۶۵ء میں ایک معاہدہ پر دونوں حکومتوں نے دستخط کئے ۔ اس کے مطابق مالدیپ کو مکمل آزادی حاصل ہوگئی ۔ اسی سال سے مالدیپ اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ مالدیپ میں صرف ہائر سیکنڈری تک کی تعلیم کا انتظام ہے۔ یہاں ابھی تک کوئی کالج نہیں ۔ تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے اسکولوں کے ماسٹر اکثر بیرونی لوگ ہیں ۔ یہاں کی تجارت زیادہ تر مچھلی اور سیاحت ہے ۔ تاہم کوریا اور جاپان کی کشتیاں یہاں کے سمندروں میں آتی رہتی ہیں ۔ اور مچھلیاں پکڑ کر لے جاتی ہیں ۔ اس کی وجہ سے مچھلی کی آمدنی پوری طرح مالدیپ کے حصہ میں نہیں آتی ۔ سیاح کافی آتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے ساتھ دولت لاتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ بہت سے مسائل بھی لارہے ہیں ۔ جن کا فی الحال کوئی حل مالدیپ کے پاس نہیں ۔ ۱۳ جنوری کا دن یہاں کے خاص خاص مقامات کے لئے مقرر تھا۔ صبح کو ہم لوگ جزیرہ مانے سے بینڈوز (Bandos Resort) کے لئے روانہ ہوئے ۔ یہ سفر برطانیہ کی بنی ہوئی ایک کشتی پر ہوا ۔ Presented by Britain جس پر لکھا ہوا تھا: دو گھنٹہ کا یہ سفر بڑا عجیب و غریب تھا۔ راستہ میں ہم دواور جزیروں پر اترتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچے ۔ اس سفر کے دوران بار بار مختلف جزیرے سامنے آتے رہے ۔ دو ہزار کی تعداد میں پھیلے ہوئے جزیرے ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوتے ہیں ۔ ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت نے سمندر میں جگہ جگہ ہرے بھرے گلدستے پھیلا رکھے ہوں ۔ یہ سفر بڑا عجیب تھا۔ ہمارے چاروں طرف بحر ہند کا پانی موجیں مار رہا تھا ۔ اس میں ہمارا اسٹیمر موجوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چاروں طرف نیلا آسمان ، اس کے اوپر بادل ، سمندر میں جگہ جگہ ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے جزیرے ، ایسا محسوس ہوا جیسے ہم حسن اور معنویت کی ایک ابدی کائنات میں رواں دواں ہیں۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا : "کییسی عجیب بات ہوگی کہ یہاں ایسی حیرت ناک دنیا ہو اور اس کا کوئی خدا نہ ہو۔"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page