Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

لندن کا اخبار ٹائمز ۳۲ صفحات پر نکلتا ہے۔ اس کی ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ کی اشاعت میں ایک با تصویر خبر صفحہ اول پر درج تھی جس کی مزید تفصیلات نے صفحہ ۲۰ کے تہائی حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا، خبر کا عنوان تھا : Gurinder Singh Mandla: Broke school rules ایک سکھ نوجوان گورندر سنگھ منڈلا (۱۸ سال) پارک گروو اسکول (برمنگھم) میں پڑھتا تھا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹرلی (Audley Dowell Lee) نے اس کی پگڑی پر اعتراض کیا۔ کیونکہ وہ اسکول یونیفارم کے خلاف تھا۔ سکھ طالب علم نے اس کی تعمیل نہیں کی۔ چنانچہ ہیڈ ماسٹر نے اس کا نام اسکول سے خارج کر دیا۔ اس کیس کو فیڈریشن آف سکھ آرگنائزیشن نے اپنے ہاتھ میں لایا۔ انہوں نے اس پر پچاس ہزار پونڈ خرچ کئے، اور پانچ سال تک مقدمہ لڑتے رہے۔ وہ عدالت سے اپنا مقدمہ ہار گئے۔ تاہم وہ ہمت نہیں ہارے۔ اب انہوں نے اپنا مسئلہ برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں پیش کیا۔ ہاؤس آف لارڈز نے کافی بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ دیا کہ برطانیہ کے قانون نسلی تعلقات (Race Relations Act) کے تحت سکھ طالب علم کو پگڑی پہننے سے روکا نہیں جا سکتا۔ کیونکہ یہ ان کے خلاف ایک امتیاز (Discrimination) کا معاملہ ہوگا۔ اس فیصلے سے ان تمام سکھوں کو فائدہ پہنچے گا جو دو لاکھ پچاس ہزار کی تعداد میں برطانیہ میں آباد ہیں۔ انگریز اپنی روایات کے بے حد پابند ہیں۔ وہ اسکول یونیفارم کے معاملہ میں اس قسم کی خلاف ورزی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ مگر قانون کی موجودگی میں وہ دھاندلی کا طریقہ اختیار نہیں کر سکتے تھے ۔ اس لئے سخت ناپسندیدگی کے باجود انہوں نے سکھوں کو یہ اجازت دیدی کہ وہ اسکول یونیفارم کی خلاف ورزی کریں۔ اور پگڑی پہن کر اسکول میں آئیں ۔ اصول کو نہ توڑنے کا یہی مزاج ہے جو کسی قوم کو کر پشن سے بچاتا ہے۔ اصول کو توڑنا روایت کو توڑنا ہے۔ اگر آپ غیروں کی ضد میں اصول کو توڑیں تو اپنوں کے درمیان بھی آپ اصول کا احترام باقی نہیں رکھ سکتے۔ انگریزوں نے جب عراق پر قبضہ کیا تو اس زمانہ کا ایک لطیفہ ہے جو انگریزی قوم کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بتاتا ہے۔ سرپرسی کاکس (Sir Percy Cox) بصرہ میں انگریز گورنر کی حیثیت سے مقیم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح کے وقت قریب کی مسجد سے موذن نے فجر کی اذان دی۔ سرپرسی کاکس کے لئے یہ نئی آواز تھی۔ اس نے متعجب ہو کر پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ بتایا گیا کہ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page