Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کی اذان ہے ۔ وہ ہر نماز کے وقت نمازیوں کو باخبر کرنے کے لئے اس قسم کی اذان دیتے ہیں ۔ سر پرسی کا کس نے کہا : " اس سے ہمارے امپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں " کہا گیا کہ نہیں۔ اس نے کہا، پھر انہیں کرنے دو جو وہ کر رہے ہیں ۔ اس سے انگریز قوم کا مزاج معلوم ہوتا ہے اور غالباً ان کا یہ مزاج بھی سکھوں کو بگھڑی کا حق دینے کا سبب ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے نو آبادیاتی دور میں انگریزوں کے اس مزاج کو استعمال نہیں کیا ۔ مثلاً اگر وہ غیر مسلموں میں تبلیغ و دعوت کا کام کرتے تو انگریز قطعا اس میں رکاوٹ نہ ڈالتے ۔ بلکہ تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ انگریزوں نے خود یہ چاہا کہ مسلمان سیاسی لڑائی چھوڑ کر تعلیم اور تبلیغ کے کام میں لگ جائیں ۔ جس میں ان کے نزدیک ان کی امپائر کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اگر مسلمان اس موقع کو استعمال کرتے تو آج یقینی طور پر تاریخ بالکل دوسری ہوتی ۔ جس عمل کو انگریز اپنے امپائر کے لئے بے خطر سمجھتا تھا، اسی میں سارے باطل امپائر کی موت چھپی ہوئی تھی لیکن مسلم لیڈروں کو سب کچھ معلوم ہے مگر یہی اہم ترین بات ان میں سے کسی کو نہیں معلوم ۔ مسلم قوموں کا تقابل اگر موجودہ زمانہ کی مغربی قوموں سے کیا جائے تو ایک عجیب فرق نظر آئے گا۔ مغربی قوموں میں حقیقت پسندی ہے اور مسلم قوموں میں جذباتیت ۔ یہ فرق اتنا زیادہ عام ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتا ہے ۔ ادب ، سیاست ، معاشرت ، اقتصادیات ، تعلیم ، غرض کوئی شعبہ اس سے خالی نہیں ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جدید دور میں مغربی قوموں کا مزاج سائنس کی فضا میں بنا اور مسلمانوں کا مزاج سیاست کی فضا میں ۔ اور یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ سائنس حقیقت پسندی پیدا کرتی ہے اور سیاست جذباتی هنگامه آرائی ۔ ہم میں سے جن لوگوں کی عمریں پچاس سال سے اوپر ہیں ، ان کو ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کے وہ مناظر اچھی طرح یاد ہیں جب کہ " تقسیم ہند " کو مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل سمجھ لیا گیا تھا ۔ اقبال اس نظریہ کو پیش کرنے کے نتیجہ میں مفکر اعظم اور محمد علی جناح اس کو لیکر اٹھنے کی بنا پر قائد اعظم بن گئے تھے ۔ لندن کے قیام کے زمانہ میں مجھے ایک کتاب پڑھنے کو ملی جس میں اس گزرے ہوئے دور کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page