لندن میں چند روز
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جاسکیں گے جو زیادہ مناسب اور زیادہ مؤثر طور پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق اور مقادات کا تحفظ کرے گا ۔ “ اس تقریر کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ جن خوبصورت الفاظ پر چالیس سال پہلے پوری قوم کی قوم دوڑ پڑی تھی وہ الفاظ حقیقت واقعہ سے کتنا زیادہ دور تھے ۔ لندن میں میری ملاقات بہت سے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں سے ہوئی ۔ سب سے زیادہ عجیب بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ آزاد اور مدنی کے سیکولر ہندوستان اور اقبال اور جناح کے اسلامی پاکستان سے زیادہ یہ لوگ انگریزوں کے لندن میں اپنے آپ کو محفوظ اور کامیاب سمجھتے ہیں ، وہی انگریزوں کا لندن جس کو دونوں گروہوں نے مشترک طور پر جہنم فرض کر لیا تھا اور اپنے خوابوں کے دیس کو اپنے لئے جنت یقین کر رکھا تھا ۔ امریکہ کے سابق صدر مسٹر رچرڈ نکسن نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے قائدین (leaders) اس کتاب میں بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ مصنف نے ہندوستان اور پاکستان کے لیڈروں کے بارہ میں بھی اپنے خیالات پیش کئے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنگِ عظیم ثانی کے بعد کی تاریخ میں بے معنی فوجی اخراجات کی سب سے زیادہ الم ناک مثالوں میں سے ایک وہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے جھگڑے کی صورت میں پائی جاتی ہے : The Indo-Pakistani conflict was one of the most tragic examples of senseless military spending in post-war history. رچرڈ نکسن کے الفاظ خواہ ہمیں کتنے ہی زیادہ ناپسند ہوں مگر یہ خود ہمارے اپنے لیڈروں کے پیدا کردہ ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان کے موجودہ حالات اگر ایسے نہ ہوتے تو امریکہ کے سابق صدر کو یہ کہنے کی کبھی جرات نہ ہوتی ۔ یہاں جو ایشیائی مقیم ہیں ان کے دو سب سے بڑے مسئلے ہیں__ مقامی باشندوں کا انہیں حقیر سمجھنا ۔ اور اپنے بچوں کے بارہ میں ان کی بے بسی ۔ انگریز قوم بے حد تحمل مزاج قوم ہے ۔ اس لئے بہت زیادہ کھلے طور پر ایشیائیوں سے اس کی بیزاری کا اظہار نہیں ہوتا ۔ مگر روزمرہ کی زندگی میں ایشیائیوں کو بار بار اس کا تلخ تجربہ اٹھانا پڑتا ہے ۔ مثلاً ایک ایشیائی خاندان کا بچہ ایک روز باہر سے آیا اور غم زدہ ہو کر اپنی ماں سے بولا ’’ ممی انگریز بچے ہم کو بلیک ( کالا ) کیوں کہتے ہیں ۔ ہم بلیک تو نہیں ہیں ‘‘ ، ایک صاحب جنہوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader