لندن میں چند روز
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عبرت ناک ورق موجود تھا۔ یہ ورق یہاں نقل کرنے کے قابل ہے۔ مارچ ۱۹۴۰ میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا جس میں ”پاکستان “ کی تجویز اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ مسٹر جناح اس اجلاس کے صدر تھے۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا: ” ہندوستان کا مسئلہ دو فرقوں کا مسئلہ نہیں بلکہ دو قوموں کا مسئلہ ہے، اور اس کو اسی طرح حل کیا جانا چاہیئے۔ اس بنیادی حقیقت کو جب تک تسلیم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک جو دستور بھی بنایا جائے گا وہ تباہ کن ہو گا ۔ وہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے نقصان کا باعث ہوگا بلکہ برطانیہ اور ہندوؤں کے لئے بھی ۔ برطانی حکومت اگر فی الواقع اس برصغیر کے لوگوں کو امن اور خوشی دینا چاہتی ہے تو ہم سب کے لئے ایک ہی کھلا ہوا راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ملک کو آزاد قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کو علیحدہ وطن دیدیں ۔ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ ریاستیں کیوں ایک دوسرے کی مخاصم ہو جائیں گی ۔ اس کے بجائے یہ ہو گا کہ اس کے بعد باہمی رقابت اور ایک دوسرے کے اجتماعی نظام پر غلبہ حاصل کرنے کا جذبہ اور ایک دوسرے پر سیاسی برتری حاصل کی خواہش ختم ہو جائے گی ۔ اس طرح کی تقسیم ان کے درمیان مزید بین اقوامی معاہدات کے ذریعہ باہم اچھے تعلقات کا سبب ہوگی ۔ اور وہ کامل ہم آہنگی سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رہیں گی ۔ اس کے بعد زیادہ آسانی کے ساتھ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اقلیتوں کے بارہ میں دو طرفہ بنیاد پر دوستانہ معاملہ کیا جا سکے اور مسلم انڈیا اور ہند وانڈیا کے درمیان بہتر تعلقات قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader