Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نو آبادیاتی طاقتوں کی دین ہے۔ پچھلی صدی میں ایسا ہوا کہ فرانسیسی سنیگال میں داخل ہوئے اور انگریز گیمبیاں میں۔ دونوں میں ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے لئے کئی لڑائیاں ہوئیں۔ آخریۂ سمجھوتہ ہوا کہ انگریز گیمبیا کے کچھ علاقے فرانسیسیوں کو دیدیں ۔ اور اس کے بدلے فرانسیسی صومالیہ کے کچھ علاقے انگریزوں کے حوالے کر دیں۔ اس طرح گیمبیا کا موجودہ عجیب و غریب ملک بنا۔ افریقہ کے لئے روانگی سے پہلے میں نے ہندوستان کے ایک اسلامی پرچہ (۱۰ اپریل ۱۹۹۰) میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا " افریقہ میں اسلام " اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ افریقہ کے لوگوں نے نہایت آسانی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور وہاں مسلمانوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ : " عیسائیت کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیمات بہت سادہ تھیں ۔ اسلام نے مقامی افراد کی تہذیبی اقدار کو کم سے کم چھیڑا ۔ اسلام نے وہ تمام باتیں قائم رہنے دیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں تھیں۔ اور افریقیوں کو ان کے اپنے طور طریقوں کے ساتھ رہنے دیا " یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ اور میں نے اپنے سفر افریقہ میں اس کی مختلف مثالیں دیکھیں۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں کا یہ مزاج بہت عجیب ہے۔ افریقہ اور دوسرے ملکوں کے بارہ میں اسلام کا یہ تقاضا ان کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ زندگی کے طور طریقے جو براہ راست اسلام سے نہیں ٹکراتے ، ان میں غیر ضروری طور پر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ مگر ہندوستان میں آتے ہی ان کا مزاج بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں ان کو اسلام کا مسئلہ نمبر ایک یہ نظر آنے لگتا ہے کہ مسلمان ہر معاملہ میں اپنی قومی شناخت علیحدہ قائم کریں۔ خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کا کام بند ہو کر رہ جائے ۔ افریقہ کی بیشتر آبادی مسلمان ہے۔ اس اعتبار سے افریقہ ایک مسلم بر اعظم ہے۔ اگرچہ ایشیا وہ براعظم ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر ایشیا میں مجموعی آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں نسبتاً زیادہ تعداد اور غیر مسلم اقوام کی ہے۔ جب کہ افریقہ میں اسلام سب سے بڑے مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم چند ملکوں کو چھوڑ کر بقیہ ممالک میں مسلمان کافی پس ماندہ ہیں۔ حتی کہ بعض ملکوں میں مسلم اکثریت کے باوجود عیسائی فرقہ حکومت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ "عیسائی سازش " نہیں بلکہ مسلمانوں کی پس ماندگی ہے۔ مسلمان ان ملکوں میں تعلیمی اعتبار سے اتنے پیچھے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page