ایک سفر
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوٹل کے کمرہ کی میز پر ہوٹل کی طرف سے مختلف قسم کے اشتہاری کارڈ رکھے ہوئے تھے۔ ایک کارڈ پر لکھا ہوا تھا کہ نئے دن کے آغاز کے لئے اس سے بہتر طریقہ کیا ہے کہ آپ ہمارے بُو نے ناشتہ سے اس کا آغاز کریں : اس کو پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آگیا (من صلی الصبح فهو في ذمة الله ) ، گویا ہوٹل کے مالک کی سوچ یہ ہے کہ آدمی اس کے تجارتی ناشتہ سے اپنی صبح کا آغاز کرے ۔ اس کے برعکس پیغمبر کی سوچ یہ ہے کہ آدمی یا تو خدا اوندہی سے اپنی صبح شروع کرے ۔ ہوٹل کا مالک صلاۃ صبح سے اختلاف نہیں کرے گا ۔ اسی طرح پیغمبر صبح کے ناشتہ سے کسی کو نہیں روکے گا۔ مگر ہوٹل والے کے ذہنی ساپانچہ میں یا خدا اوندہی ثانوی چیز ہے اور پیغمبر کی فکر میں ناشتہ ثانوی چیز ۔ اسی تقدیم و تاخیر کے نتیجہ میں ایک رویہ دنیا پرستی بن جاتا ہے اور دوسرا رویہ آخرت پسندی ۔ یہ مئی کو صبح 10 بجے کا وقت ہے ۔ میں ہوٹل کے باہر کے حصہ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک طرف ہوٹل کی بلند و بالا عمارت ہے ۔ دوسری طرف سمندر حد نظر تک پھیلا ہوا موجیں مار رہا ہے۔ درمیان میں سبزہ اور پھول اور درخت کے مناظر ہیں۔ موسم نہایت خوشگوار ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے لمس رہبانی کی مانند ہر چیز کو چھوتے ہیں اور پھر گزر جاتے ہیں ۔ چڑیوں کی آوازیں قدرتی نغمہ بکھیر رہی ہیں۔ " دنیا جب اتنی حسین ہے تو آخرت کتنی زیادہ حسین ہوگی “ میری زبان سے نکلا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آخرت کی دنیا کا ایک ابتدائی تعارف ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اس کے ساتھ ” حزن “ رکھ دیا تا کہ کوئی شخص یہاں اپنا دل نہ لگا سکے۔ آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے آئینہ میں آخرت کو دیکھے ۔ لیکن اگر آدمی موجودہ دنیا ہی کو اصل سمجھ کر اس میں کھو جائے تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے آپ آئینہ میں ایک خوبصورت پھول دیکھیں اور اس پھول کو خود آئینہ کے اندر حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader