ایک سفر
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ دکار میں دو ہزار مسجدیہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا تمام مسجدیں آباد ہیں۔ انھوں نے پرمسرت لہجہ میں کہا:۔ سنغالیون متدينون وهم متمسكون لدينهم الحنيف (سینیگال کے لوگ دین دار ہیں اور وہ اپنے دین میں پختہ ہیں) ایک مرتبہ میں نے دکار کی ایک سڑک پر دیکھا کہ ایک فرانسیسی خاتون سڑک پر پیدل چل رہی ہے اور اس کی گود میں کتے کا ایک بچہ ہےجس کو وہ عین اسی طرح لئے ہوئے ہے جس طرح کوئی ماں اپنے بچہ کو اپنے سینہ سے چمٹائے ہوئے رہتی ہے ۔ مغرب کی عورت نے انسانی بچہ کو گود میں لینا فیشن کے خلاف سمجھا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا وہ صرف یہ کہ اس نے کتے کے بچے کو اپنی گود میں لے لیا۔ یہ دراصل فطرت کا تقاضا ہے جو عورت کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس نے انسانی بچہ کو چھوڑا تھا مگر اس کے بعد فطرت نے اس کو حیوانی بچہ سنبھالنے پر مجبور کر دیا۔ روانگی سے پہلے دہلی میں میں نے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں دکار (Dakar) کا صفحہ دیکھا۔ اس میں ایک نہایت خوب صورت عمارت کی تصویر بنی ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ یہ صدارتی محل ہے جو سمندر کے کنارے بنا ہوا ہے۔ 4 مئی کو شہر کے مختلف مقامات دیکھنے کے دوران مذکورہ "صدارتی محل" دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ جب میں اس عمارت کے سامنے کھڑا تھا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی محل ہے جس کی تصویر میں نے دہلی میں کتاب میں دیکھی تھی۔ تصویر میں جو عمارت نہایت عظیم نظر آئی تھی، وہ حقیقی طور پر دیکھنے میں مقابلہ معمولی نظر آنے لگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقت کے مقابلہ میں تصویر ہمیشہ زیادہ عظیم دکھائی دیتی ہے۔ بیشتر لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ اس لئے وہ تصویر کو حقیقت سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ مگر جب وہ اس کو پا لیتے ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ اب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جو حقیقت انھوں نے پائی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو "تصویر" کی صورت میں انھوں نے پہلے دیکھی تھی۔ ایک بات یہ محسوس ہوئی کہ یہاں وہ بدعت نہیں ہے جو ہندوستان اور پاکستان میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ یعنی مسلم ملکوں کی سیاسی رقابتوں کا اثر دینی حلقوں پر ۔ وہاں ہر دینی حلقہ کسی ایک کا قصیدہ خواں بن کر دوسرے کے اوپر "لوم وثلوم" کی لفظی بارش برسارہا ہے۔ یہاں کے دینی لوگ سیاست سے قطع نظر کرتے ہوئے ، ہر مسلم ملک سے یکساں تعلق قائم رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً دکار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader