ایک سفر
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
سریں درد شروع ہو چکا تھا۔ میرا یہ حال نہایت عجیب ہے۔ میرے وجود میں غصم اتنا سرایت کئے ہوئے ہے کہ میں کسی بھی چیز سے محظوظ نہیں ہو سکتا۔ اپنی کمزوریوں اور ناہلیوں کے بارہ میں سوچتا ہوں تو ایک شمیری زبان پر فارسی کا یہ مصرعہ آ جاتا ہے : در حیرتم کہ دہقاں بہ چہ کار کشت مرا ! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ افغانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ اب یورپ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آجکل اکثر تعلیم یافتہ افغانی بیرونی ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ افغانستان کا اصل مسئلہ روسیوں کا افغانستان میں آنا نہیں ہے ، بلکہ تعلیم یافتہ افغانیوں کا افغانستان سے چلا جانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روسی جارحیت کی بنا پر ایسا ہوا۔ میں نے کہا کہ ایسا کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ اسی قسم کا واقعہ پاکستان میں بھی ہوا ہے ، جب کہ پاکستان میں کوئی بیرونی جارحیت نہیں ہوئی۔ پاکستان مسلم ہوم لینڈ کے طور پر بنا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو وہاں کے بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بیرونونی ملکوں میں چلے گئے۔ میں نے کہا کہ اس ترک وطن کی اصل وجہ سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔ افغانستان یا پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اس لئے باہر کے ملکوں میں چلے گئے کہ ان کے لئے اپنے ملک کے مقابلے میں غیر ملک میں اقتصادی مواقع زیادہ تھے۔ ہمارے تمام رہنما سو برس سے بھی زیادہ عرصہ سے سیاسی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ اقتصادی ترقی کے لئے جدوجہد کرتے۔ کیوں کہ اقتصادی ترقی کے بغیر سیاسی آزادی بے معنی ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ایک پادری سے میری بحث ہوئی۔ پادری نے ایسا سوال کیا جس کا میں جواب نہ دے سکا۔ پادری نے مجھ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر غلطی نہیں کرتا۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ آپ آدم کو پیغمبر مانتے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ خود آپ کے قرآن کے بیان کے مطابق ، آدم نے جنت میں ممنوعہ پھل کھایا اور غلطی۔ میں کنفیو زن میں پڑ گیا۔ میری سمجھ میں کچھ جواب نہیں آیا۔ میں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ یہ نہیں ہے کہ پیغمبر غلطی نہیں کرتا۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر غلطی پر قائم نہیں رہتا۔ اگر آپ پادری کے سوال پر پہلے ہی اس کی وضاحت کر دیتے تو اس کا اعتراض اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader