Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ ختم ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر اسماعیل عبد العلیم (عمر ۵۰ سال) لندن میں رہتے ہیں۔ لندن کے مسلمانوں کے حالات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہاں مسلمانوں میں سب سے زیادہ برصغیر ہند کے لوگ رہتے ہیں۔ ساؤتھ ہال میں ہندوستانی، بر یڈ فورڈ میں پاکستانی اور ایسٹ انڈ میں بنگلہ دیشی۔ یہ لوگ یہاں اپنے انھیں رواجوں اور انھیں عادتوں کے ساتھ رہتے ہیں جو وہ اپنے ملک سے لے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر انگریز انھیں ناپسند نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں میں ٹالرنس غیر معمولی حد تک پایا جاتا ہے۔ عرب ان کے اس مزاج کو البرودة الانجليزيه کہتے ہیں۔ انگریز کبھی آپ سے یہ نہیں کہے گا کہ وہ آپ کو پسند نہیں کرتا۔ یا یہ کہ تم اپنے ملک کو واپس چلے جاؤ، خواہ وہ آپ کے اوپر کتنا ہی زیادہ غصہ کیوں نہ ہو (لا يقول الانجليزي انه لا يحبك وعليك ان ترجع الى بلدك مهما كان هو غاضباً عليك) یہی تحمل قوموں کی ترقی کا راز ہے۔ جو قوم تحمل اور برداشت کی صفت کھودے، وہ موجودہ دنیا میں کبھی اعلیٰ ترقی نہیں کر سکتی۔ طارق الکردی ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ ڈبلن (یورپ) میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک واقف کار نے بتایا کہ وہ وہاں اسلامی مرکز کے طرز پر باقاعدہ دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے دو چھپے ہوئے انگریزی پمفلٹ مجھے دئے۔ یہ میرے دو مضامین کے انگریزی ترجمے تھے۔ ان کو چاپ کر وہ وہاں تقسیم کر رہے ہیں۔ ان کے عنوانات یہ ہیں : 1. What is Islam 2. Islam in the 21st Century ایک اور صاحب جو بحرین سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے بحرین کا عربی مجلہ الھدایة ( جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ ، دسمبر ۱۹۸۹ء) دیا۔ یہ مجلہ بحرین کی وزارة العدل والشئون الاسلامية کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔ مذکورہ شمارہ میں راقم الحروف کی کتاب ” تجدید دین“ کے عربی ایڈیشن کا مفصل تعارف ” تجدید علوم الدین “ کے عنوان سے چھپا ہے۔ تبصرہ نگار ڈاکٹر مکرم السید غنیم ہیں ۔ آٹھ صفحہ کے مفصل تعارف کے بعد آخر میں لکھتے ہیں: (ختاماً فان ناشرى الكتاب الحالي من

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page