Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے لئے معلوم الفاظ تھے، مگر میں کچھ بھی سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ تفسیر اسلام اور تعبیر دین کا یہ طریقہ مشہور مسلم رہنماؤں کے یہاں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔ مثلاً سفر سے پہلے میں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ”جہاد فی سبیل اللہ“ پڑھی۔ یہ کتاب اردو میں تھی۔ مگر پوری کتاب میرے لئے ناقابل فہم تھی۔ کیوں کہ اس کتاب میں خطابت اور انشا پردازی تو ضرور تھی، مگر دلیل کی نوعیت کی کوئی چیز اس میں میں نے نہیں پائی۔ اس کتاب میں جن آیتوں یا حدیثوں سے مصنف نے اپنا انقلابی نقطہ نظر نکالا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ویسا ہی تھا جیسا مذکورہ انگریزی قول میں نظر آتا ہے۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اپنا کارڈ دیا تو معلوم ہوا کہ وہ احمد خلیفہ نیاس ہیں ۔ وہ المھد الاسلامی الزراعی کے پریزیڈینٹ (رئیس) تھے۔ ان کے کارڈ پر ” جنرل ڈی گال اسٹریٹ “ لکھا ہوا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دکار میں فرانس کے سابق حکمراں جنرل ڈی گال کے نام سے سڑک موجود ہے۔ جنرل ڈی گال کے نام سے گالزم (Gaullism) کی اصطلاح بنی ہے۔ ڈیگال کے زمانہ میں سینیگال اور دوسرے کئی افریقی ملکوں میں فرانس کی حکومت تھی ۔ تا ہم آزادی کی تحریکوں نے ان مقبوضات کو فرانس کے لئے ایک بوجھ بنا دیا تھا۔ ڈی گال نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ان ملکوں کو یک طرفہ طور پر آزاد کر دیا۔ ڈیگال کے اس عمل نے فرانس کو نئی طاقت دے دی ۔ تاہم فرانس کو زندہ کرنے کا یہ کام صرف اس قیمت پر ہوا کہ اس کے بعد ڈی گال کی سیاسی موت ہوگئی۔ اکثر حالات میں قوموں کے مسائل کا حل اسی حقیقت پسندانہ تدبیریں ہوتا ہے۔ مگر قوموں کے رہنما افراد اپنی موت پر راضی نہیں ہوتے، اس لئے وہ قوموں کو زندگی دینے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ۴ مئی ۱۹۹۰ کی سہ پہر کو افریقی بچوں کا پروگرام تھا۔ یہ بے حد مؤثر پرو گرام تھا۔ مگر وہ بچوں کے عملی نوعیت کا تھا اس لئے اس کو لفظوں میں پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ایک تنظیم دائرۃ المستر شدین والمسترشدات کے نام سے قائم ہے۔ سارے ملک میں اس کے مدارس موجود ہیں جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کا معقول انتظام ہے۔ یہ طلبہ اور طالبات ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کئی بڑے اثر انگیز پرو گرام کئے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page