ایک سفر
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
ان تبدیلیوں نے جدید تاریخ میں پہلی بار اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھول دئے ہیں۔ مثلاً سوویت روس میں اس سے پہلے مذہب پر مکمل پابندی لگی ہوئی تھی ۔ وہاں کارل مارکس کا یہ کلمہ دہرایا جا رہا تھا کہ "مذہب عوام کی افیون ہے"۔ مگر آج روس کے دانشور اعلان کر رہے ہیں کہ خود مارکسزم ایک مزید بد تر قسم کی ذہنی افیون تھی جس کو مارکس نے ایجاد کیا۔ اور وہ اس قابل ہے کہ اس کو دفن کر دیا جائے ۔ اس سے پہلے روس کے علاقہ میں قرآن کا کوئی نسخہ لے جانا قانوناً ممنوع تھا۔ آج خود ایر و فلاٹ قرآن کے دس لاکھ نسخے جدہ سے ماسکو پہنچارہی ہے۔ وغیرہ میں نے کہا کہ ایسی حالت میں ہم کو چاہئے کہ مشکلات و مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے دعوتی مواقع کو استعمال (avail) کریں۔ شیخ محمود احمد کفتاز و دمشق ) نے اپنی تقریر میں ایک مسیحی مبلغ کا قول نقل کیا۔ اس نے کہا کہ مسلم دنیا کے بعض علاقوں میں ہماری تبلیغی کوششیں کسی حد تک کامیاب ہوئی ہیں جہاں کہ اسلام کا دائرہ اثر گھٹنا شروع ہو گیا تھا۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ اسلام اچانک خود ہمارے اپنے گھر کے اندر پھیلنے لگا ( نجحنا نسبياً بالتبشير فى بعض نواحی العالم الاسلامی حيث بدء الاسلام ينحسر ولكننا فوجئنا بالسلام فى عقر دار نا ينتشر) اسلام اور دوسرے مذہبوں کا فرق یہ ہے کہ دوسرے مذاہب نے تبدیلی اور تحریف کی بنا پر اپنی اصل حیثیت کھو دی ہے۔ مگر اسلام اپنی فطری صورت پر قائم ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرف جب انسان کو لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو انسان اپنی فطری طلب اور موجودہ مذہب میں مطابقت نہیں پاتا۔ اس کے برعکس انسان جب اسلام سے متعارف ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اسلام عین اس کی فطرت کے مطابق ہے۔ وہ فوراً اسلام کو اپنا لیتا ہے۔ بعض لوگ اپنے ذاتی مذہب پر چلتے ہیں اور اس کو اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں ۔ اس قسم کی مثالیں یہاں بھی سامنے آئیں ۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو متحرک کیا جائے : Taqwa is to mobilize the people میں نے اس کی مزید تشریح پوچھی تو اس کے جواب میں انھوں نے جو تقریر کی اس کے الفاظ سب کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader