ایک سفر
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لیبی لیڈروں کو بھی اپنے بارہ میں یہی خوش گمانی ہو گئی تھی جواب اپنے آپ ختم ہو رہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صرف دو میں سے کوئی ایک چیز ممکن ہے۔ یا تو تمام مسلم ممالک اپنے اپنے دائرہ میں محدود ہو کر رہیں۔ اور اگر وہ کسی بھی درجہ میں اپنے آپ کو متحدہ بلاک کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو عملی طور پر اس کی صرف ایک ہی ممکن صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام ملک سعودی عرب کی علامتی قیادت کو تسلیم کر لیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس مکہ مدینہ" ہے۔ مسلمانوں کے پاس عالمی اتحاد کی یہی ابدی بنیاد ہے۔ مذہبی سطح پر آج بھی یہی چیز ان کو متحدہ ملت کا شعور دئے ہوئے ہے، اسی طرح یہی وہ چیز ہے جو سیاسی سطح پر ان کے لئے اتحاد کی ممکن بنیاد بن سکتی ہے۔ اٹلی نے ۱۹۱۱ میں طرابلس پر حملہ کیا۔ وہ ۱۹۴۳ تک اس پر قابض رہے۔ اس وقت یہاں ترکوں کی حکومت تھی۔ ایچ جی ویلز (H.G. Wells) نے اپنی کتاب "آؤٹ لائن آف ہسٹری" میں لکھا ہے کہ اٹلی کے سامراجیوں نے اپنے ہم وطنوں کو ابھار اک وہ مزینی کو بھول جائیں اور جولیوس سیزر کو یاد رکھیں : The Italian imperialists exhorted their countrymen to forget Mazzini and remember Julius Caesar (p. 1058). جی مزینی (Giuseppe Mazzini) ۱۸۰۵ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۷۲ میں اس کی وفات ہو گی۔ وہ اٹلی کا مشہور قومی ریفارمر تھا۔ وہ ہرل نیشنلزم کا علم بردار تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قوموں کے درمیان ہتھیار کا استعمال بند ہو جانا چاہئے اور ہمشیرگی اقوام (Sisterhood of nations) کے اصول پر باہمی تعلق قائم ہونا چاہئے (14/692) مگر اٹلی کے پر جوش حکمران اپنے حال کے لیڈر کو بھول گئے۔ انھوں نے دو ہزار سال پہلے کے حکمران جولیوس سیزر (Julius Caesar) کی سنت پر چلنا چاہا۔ جولیوس سیزر ۱۰۰ ق م میں روم میں پیدا ہوا، اور ۴۴ ق م میں اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس نے رومی سلطنت کی توسیع کے لئے مختلف ملکوں پر حملے کئے ۔ اور بالآخر ایک کمزور روم چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔ (3/579) یہی اکثر قوموں کا حال ہے۔ انھیں اپنے جنگ جو ہیرو زیادہ پسند آتے ہیں۔ اصلاحی اور تعمیری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader