Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کرنے والوں کو وہ اکثر غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ خواہ جنگ جو افراد نے انہیں بربادی کے سوا کچھ اور نہ دیا ہو۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں یہ مسئلہ ہے کہ ملک کی معیشت کو چلانے کے لئے پیسہ کہاں سے لایا جائے۔ لیبیا میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں ، لیبیا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تیل سے ملنے والی بے پناہ دولت کو کس طرح بہتر طور پر قوم کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے : The main problem of the oil boom is how best to use the large sums of money available to promote the well-being of the nation as a whole (10/882). رابطۂ عالم اسلامی کے تحت مکہ مکرمہ سے ایک انگریزی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام مسلم ورلڈ لیگ جنرل ہے۔ اس کے شمارہ مارچ ۔ اپریل ۱۹۸۹ میں چار صفحہ کا ایک با تصویر مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: Libya's New Oil Era اس مضمون میں ایک بڑی سبق آموز بات کہی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے لیبیا پر تجارتی پابندیاں لگائیں اور اس کے تیل کے کارخانوں سے اپنے آدمیوں کو واپس بلایا۔ بظاہر اس کا مقصد یہ تھا کہ لیبیا کی اقتصادیات تباہ ہو جائیں۔ مگر نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا۔ خود امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا سے امریکی کمپنیوں کی واپسی کا انھیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی آمدنی میں اور اضافہ ہو گیا۔ مشکل آسانی میں تبدیل ہو گئی۔ مسلم ورلڈ لیگ جنرل کے مذکورہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی واپسی سے لیبیا کو مختلف فائدے پہنچے ۔ اس سے انھیں موقع ملا کہ وہ ضروری ٹکنالوجی کو خود حاصل کریں ، اس سے ان کی حب الوطنی اور محنت میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے لیبیا کی تیل کی صنعت کو مکمل طور پر لیبی بنا لیا ۔ اس کے ذریعہ سے لیبیا میں تیل کی صنعت کا ایک نیا دور آ گیا (صفحہ ۶۱) سعودی عرب کے ” فیصل انعام “ کی طرح لیبیا میں سالانہ ” قذافی انعام “ ۱۹۸۹ اسے شروع کیا گیا ہے۔ لیبی حکومت نے اس مقصد کے لئے دس ملین ڈالر کا فنڈ سوئز رلینڈ کے ایک بینک میں جمع کیا ہے۔ مئی ۱۹۸۹ میں اس کے پہلے انعام کا اعلان کیا گیا۔ یہ انعام ساؤتھ افریقہ کے نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page