Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

اور وہ اس سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ میں نے سوچا کہ آج ساری دنیا میں کروڑوں انسان روزانہ ٹیلی ویژن پر واقعات کی تصویریں دیکھتے ہیں اور اس کو دیکھ کر لطف اٹھاتے ہیں۔ مگر شاید ہی زمین پر کوئی انسان ہو جو ٹیلی ویژن دیکھے تو اس کو ٹیلی ویژن کے پردہ پر خود اپنا فلم دکھائی دینے لگے۔ وہ یہ سوچ کر تڑپ اٹھے کہ قیامت میں اگر خدائی ٹیلی ویژن پر میری زندگی کا ریکارڈ اسی طرح عیاں کر دیا گیا تو میرا انجام کیا ہوگا۔ ایک صاحب سے میں نے یہ بات کہی تو انھوں نے ایسا جواب دیا جس نے میری زبان کو بند کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان سب اندیشوں میں نہیں رہتے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارا راستہ سیدھا جنت کی طرف چلا جارہاہے۔ اصحاب رسول کو جو ایمان ملاتا تھا وہ تو ان کو رجاء اور خوف کے درمیان رکھتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ایسا اسلام دریافت کر رکھا ہے جس میں ”خوف“ حذف ہوگیا ہے۔ اب ان کے لئے ایمان صرف رجاء ہی رجاء ہے، اس میں خوف اور اندیشہ کا گزرنہیں۔ 8 مئی کی سہ پہر کو کانفرنس کے تمام شرکاء قافلہ کی صورت میں دکار کے باہر اس مقام پر لے جائے گئے جہاں المو تمر الاسلامی کا مرکز زیر تعمیر ہے۔ یہ عظیم مرکز سعودی عرب ، کویت ، لیبیا ، عرب امارات ، اور دوسرے عرب ممالک کے مشترک مالی تعاون سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ دیو پیکر مشينیں، اونچی دیواریں ، بلند و بالا ستونوں کے درمیان آدمی اپنے قد کو چھوٹا محسوس کر رہا تھا۔ لوگ متیر نگاہوں سے اس عمارت کی پہاڑ کو دیکھ رہے تھے۔ جو ان کی آنکھوں کے سامنے وسیع میدان میں ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ مادی حقیقتوں کی اس ظاہری عظمت کے سامنے کون ہوگا جو معنوی حقیقتوں کی مخفی عظمت کو محسوس کرے اور اس کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دے۔ یہ بھی شاید خدا کے قانون (الناس ، انعام ۹ ) کا ایک پہلو ہے کہ اگرچہ اللہ کے نزدیک ساری عظمت اور ساری اہمیت صرف معنوی حقیقتوں کو حاصل ہے ، مادی حقیقتیں اللہ کے نزدیک جناح بعوضہ (مچھر کے پر) کے برابر بھی وزن نہیں رکھتیں ۔ مگر امتحان کی اس دنیا میں معاملہ عملاً بالکل الٹ دیا گیا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ امتحان ، اور کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جو اس امتحان میں پورے اتریں۔ یہی لوگ خدا کے قریب جگہ پائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page