Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

9 مئی 1990ء کی شام کو "قصر الرئیس" میں جمہوریہ سینگال کے صدر عبده ضیوف کے ساتھ اجتماعی ملاقات ہوئی۔ اس عمارت کی تصویر اس سے پہلے میں نے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں دیکھی تھی ۔ اس لئے جب میں وہاں پہنچا تو مجھے اجنبیت محسوس نہیں ہوئی ۔ باہر سے وہ مجھے دیکھی ہوئی عمارت کی طرح نظر آئی۔ فرانسیسیوں کی بنائی ہوئی یہ عمارت انتہائی سادگی کے باوجود انتہائی پرشکوہ ہے۔ جب میں اس "قصر" میں داخل ہوا اور اس کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا اس مخصوص ہال میں پہنچا جہاں صدر کے ساتھ ملاقات مقرر تھی تو میرا پہلا تاثر یہ تھا : اقتدار کی شان و شوکت اتنی زیادہ ہے کہ مشکل ہی سے کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اس کو دیکھے ، اس کے باوجود اس کا طالب نہ بنے۔ صدر سے ملاقات کے بعد کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ پر ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہاں پہنچے تو گانے کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ صدر کی رہائش گاہ میں مکمل سکون تھا۔ مگر کلچرل منسٹر کی رہائش گاہ میں شاید عہدہ کی رعایت سے صوتی آرٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ یہاں ہم نے مغرب کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں پاکستان اور ایران کے سفیر بھی تھے۔ میرا ارادہ ہندوستان کے سفیر سے ملاقات کرنے کا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ ہندوستان کا سفارت خانہ اس وقت بغیر سفیر ہے۔ سیکنڈ سیکریٹری ضروری فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شام کا کھانا ایک لبنانی تاجر کے یہاں تھا۔ وہ لبنانی عرب ہیں اور ان کا نام فواد شقیری ہے۔ وہ یہاں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کا عالی شان مکان بتارہا تھا کہ وہ اپنی تجارت میں نہایت کامیاب ہیں۔ آج کے کھانے پر پریذیڈنٹ مسٹر عبده ضیوف بھی مدعو تھے۔ مگر کسی وقتی سبب سے نہ آسکے۔ ان کی طرف سے ان کے ایک نمائندہ نے شرکت کی۔ 9 مئی کو تواون (Tivoouane) کا پروگرام تھا۔ یہاں سینگال کے بہت بڑے شیخ عبدالعزیزی (الخليفة العام للطائفة التجانية) رہتے ہیں۔ وہ نہ صرف بہت ضعیف ہو چکے ہیں، بلکہ دونوں آنکھوں سے معذور بھی ہیں۔ ان کا معاملہ یہاں تقریباً وہی ہے جو سعودی عرب میں شیخ باز کا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page