ایک سفر
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
(عربی الفاظ یاد نہیں) امّٹی کی شام کو کھانے کی میز پر دو افریقی نوجوان تھے۔ ایک کا نام شیخ احمد تیجانیکوتا تھا۔ دوسرے کا نام میں نہ پوچھ سکا۔ دوسرے ساتھی سے میں نے پوچھا کہ آپ تیجانیے سے تعلق رکھتے ہیں یا مرید یہ سے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ دونوں میں سے کسی سے بھی نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اس وقت سینگال کے گھروں کا یہ حال ہے کہ ماں اور باپ تو ان دو میں سے کسی ایک طائفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر سینگال کی نئی نسل ان باتوں میں یقین نہیں رکھتی۔ نوجوان نسل دونوں سے کٹتی جارہی ہے۔ میں طوبی کی مسجد کو دیکھ رہا تھا کہ ایک صاحب مجمع سے نکل کر میری طرف آئے۔ وہ میرا نام وغیرہ پوچھنے لگے۔ میں نے کہا کیا آپ نے میری عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کو میرے بارہ میں پوچھنے کا خیال کیوں آیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں جب میں نے مجمع کو دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ کو منتخب کر لیا۔ کیوں کہ آپ کے چہرہ میں مجھے اسلامی عظمت دکھائی دی (الما رأیت الوجوہ فقد اخترت وجهكم لما توخي من العظمة الاسلامية) امّٹی کی صبح کو جزیرہ گور سے (Goree) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ دکار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جدید طرز کی مشینی کشتی جب ہم لوگوں کو لے کر سمندر کی موجوں کے اوپر تیزی سے چلنے لگی تو بے اختیار میری زبان پر یہ آیت آگئی: ولقد کرھنا بنی آدم وحملنا ھم في البر والبحر (۷۰ / ۱۷)۔ جانور اپنے پیروں کے ذریعہ زمین پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر کے خشکی کا سفر کرایا۔ مچھلیاں اپنی جسمانی محنت سے سمندر میں تیرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسان کو کشتیوں پر بٹھا کر سمندر کی سطح پر رواں دواں کیا۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ فضا میں اڑتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضا میں اڑنے کا انتظام کیا۔ یہ کیسا عجیب "کرھنا" کا معاملہ ہے جو انسان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں کے لئے حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوں۔ شکر یہ ہے کہ آلاء اللہ کو سوچ کر آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور پھر زبان سے نکلے کہ خدا ! یا تیرا شکر ہے محض شکر کو دہرانے کا نام شکر نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader